ایک جج شہید، ایک زخمی اور 3 لاپتہ، چیف جسٹس بار سیاست اور وکلا کو آپس میں لڑانے کے بجائے عدالتی افسران کے تحفظ پر توجہ دیں: منیر احمد خان کاکڑ
عدالتی کرسی وکلا سیاست میں مداخلت کا لائسنس نہیں دیتی، اگر سیاست کا اتنا ہی شوق ہے تو سیاسی میدان میں آئیں

سمجھ نہیں آ رہا چیف جسٹس بلوچستان کس مصلحت کا شکار ہیں کہ ادارے کی مضبوطی کے بجائے دوسروں کے لیے تباہی کا سبب بن رہے ہیں
قاضی محمد جان، سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ، سول جج علی بیگ اور اب اسد اللہ رئیسانی نشانہ بنے، پورے عدالتی نظام کا تحفظ داؤ پر لگ چکا ہے: پاکستان بار کونسل
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد خان کاکڑ نے بلوچستان میں عدالتی آفیسران پر پے درپے حملوں، شہادت اور گمشدگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان میں عدلیہ کے آفیسران کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، ایک جج کو شہید، ایک کو زخمی کیا گیا جبکہ 3عدالتی افسران لاپتہ ہوچکے ہیں، ایسے حالات میں عدلیہ کے تحفظ اور ادارے کی فعالیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ چیف جسٹس بلوچستان بار کے معاملات میں مداخلت کی بجائے عدالتی افسران کے تحفظ پر توجہ دیں۔اپنے جاری کردہ بیان میں منیر احمد خان کاکڑ نے کہاکہ 7اکتوبر 2025ء کو خاران سے قاضی محمد جان کو اغواء کیاگیا،اس کے بعد 23 جولائی 2026 کو مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ کوئٹہ سے مستونگ جارہے تھے، حملے میں وہ اور ان کا گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طارق علی لاشاری زخمی ہوئے۔ منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ 6 ستمبر کو سینئر سول جج حب علی بیگ سے قلات اور خضدار کے درمیان سفر کے دوران رابطہ منقطع ہوا جبکہ گاڑی تاحال لاپتہ ہے،انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2026 کو ایڈیشنل سیشن جج پنجگور اسد اللہ رئیسانی بھی کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وہ گاڑی میں گن مین کے ہمراہ پنجگور کے لیے روانہ ہوئے تھے تاہم منزل تک نہیں پہنچ سکے ،منیراحمد خان کاکڑنے کہا کہ یہ محض چند افراد کی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ اگر ایک جج اپنے منصبی فرائض کی انجام دہی کے لیے سفر کرتے ہوئے محفوظ نہیں لیکن موجودہ حالات میں چیف جسٹس بلوچستان کو بار کے معاملات اور وکلا کی سیاست میں مداخلت کے بجائے اپنی توجہ عدلیہ کے بنیادی مسائل پر مرکوز کرنی چاہیے۔بار کونسل کے معاملات میں چیف جسٹس کی مسلسل مداخلت، منتخب بار نمائندگان کے خلاف مختلف مقدمات میں غیر ضروری اور ذاتی نوعیت کے ریمارکس، اور بار کے معاملات کو عدالتی کارروائیوں میں موضوع بنانا اب محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ادارہ جاتی مسئلہ بن چکا ہے۔منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ عدالتی کرسی کسی فرد کو بار کی سیاست، بار کونسل کے انتخابات یا منتخب نمائندگان کے معاملات میں مداخلت اور وکلا کو آپس میں لڑانے کا لائسنس نہیں دیتی۔ اگر کسی کو سیاست کا اتنا ہی شوق ہے تو سیاسی میدان میں آکر اپنا کردار ادا کرے۔عدالتی منصب کو سیاسی یا ذاتی اختلافات کے اظہار کے لیے استعمال کرنا نہ عدلیہ کے وقار کے لیے مناسب ہے اور نہ نظامِ انصاف کے لیے۔منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی قیادت اور انتظامیہ کی بنیادی ترجیح عدلیہ کے تحفظ، ضلعی عدالتوں کی سکیورٹی، عدالتی افسران کے لیے موثر حفاظتی انتظامات اور زیر التوا سکیورٹی معاملات کا فوری حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف جسٹس بلوچستان بار کے معاملات میں مداخلت پر توجہ دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب عدالتی افسران کے تحفظ کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے، سمجھ نہیں آرہا کہ چیف جسٹس بلوچستان کس مصلحت کا شکار ہے کہ وہ ادارے کی مضبوطی کی بجائے دوسروں کیلئے ادارے کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکلا برادری عدلیہ کی آزادی اور ججز کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ عدلیہ کو بار سیاست سے نکال کر اپنے اصل منصبی کردار یعنی آزاد، محفوظ اور موثر انصاف کی فراہمی پر توجہ دینا ہوگی۔
