موٹرسائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کیلئے سستا پیٹرول سکیم کھٹائی میں پڑگئی
حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں فیول سبسڈی سکیم ختم کرنے پر اتفاق کرلیا، صحافی شہباز رانا کی رپورٹ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے درمیان 1.21 ارب ڈالر کے قرض کی قسط پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، معاہدے کے لیے حکومت نے فیول سبسڈی اسکیم کو فوری طور پر ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی، معاہدے کے تحت پاکستان نے سماجی و صحت کے شعبے کے اخراجات میں بہتری لانے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی اور گورننس کو بہتر بنانے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون سے منسلک صحافی شہباز رانا کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف مشن کی سربراہ آئیوا پیٹرووا کی قیادت میں یہ مذاکرات 23 ستمبر سے 7 اکتوبر 2026ء تک کراچی اور اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جن میں 2026ء کے آرٹیکل فور، ایکسٹینڈڈ فنڈ سہولت کے چوتھے اور ریسیلینس اینڈ سستین ایبلٹی سہولت کے تیسرے جائزے پر بات چیت کی گئی۔
Pakistan-IMF reach staff level agreement on $1.2 billion loan!
Pakistan and the International Monetary Fund have reached a staff-level agreement on $1.2 billion two loan tranches after Islamabad agreed to promptly phase out fuel subsidy scheme, bring improvements in social and health sector spending, and enhance governance of the state-owned companies.
https://t.co/y8K8YnRCjW— Shahbaz Rana (@81ShahbazRana) October 8, 2026
مذاکرات کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں آئیوا پیٹرووا نے واضح کیا کہ زیادہ لاگت اور غیر ہدف شدہ ہونے کی وجہ سے فیول سپورٹ اسکیم کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیئے، اگر مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ ہوتا بھی ہے تو کسی بھی قسم کی فیول سپورٹ محدود اور طے شدہ مدت کیلئے پہلے سے قائم سوشل پروٹیکشن پروگرامز کے ذریعے ہدف شدہ اور مالی سال 2027ء کے بجٹ کے دائرہ کار میں ہونی چاہیئے۔
بتایا جارہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے موٹرسائیکل سواروں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ماہانہ بالترتیب 20 اور 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دینے کے لیے تین ماہ کی اس اسکیم کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے تھے، وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات کرکے اس حوالے سے منانے کی کوشش بھی کی تھی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
اس سے قبل دی ایکسپریس ٹریبون نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ آئی ایم ایف نے اس غیر ہدف شدہ سبسڈی اور اس کی بھاری لاگت پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے، جب کہ سرکاری حکام کا اصرار تھا کہ اعتراضات کے باوجود یہ اسکیم تین ماہ تک جاری رہے گی، تاہم اب آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے بعد حکومت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔
