ایم پی اے عبدالسلام آفریدی کو بھی اغواء کرلیا گیا، یہ صوبے کو آخر کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ جنید اکبر خان

پشاور (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ہاسٹل میں پیش آنے والے پرتشدد واقعے میں رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کو بھی اغواء کرلیا گیا، پولیس اور نامعلوم افراد کی کارروائی کے دوران فائرنگ سے ڈاکٹر زرین سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جنید اکبر نے اپنے بیان میں شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخواہ کے صدر ڈاکٹر نبی جان آفریدی اور صوبائی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سردار محمد سعد کے ساتھ ساتھ رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کو بھی نشانہ بنایا گیا اور وہ تاحال لاپتہ یا اغواء ہیں، یہ تمام رہنما اور ڈاکٹرز تحریکِ انصاف کے متوقع لانگ مارچ میں شرکاء کو طبی خدمات اور امداد فراہم کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اس دوران ہاسٹل پر کارروائی کی گئی۔
رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) کے ہاسٹل سے صوبائی صدر ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا ڈاکٹر بنی جان آفریدی اور صوبائی سیکرٹری جنرل انصاف ڈاکٹرز فورم ڈاکٹر سردار محمد سعد کے اغواء اور فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر زرین سمیت تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دونوں ڈاکٹرز لانگ مارچ میں طبی خدمات کی فراہمی کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اس طرح نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
صوبے کو آخر کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ اگر عوام نے مزاحمت کی اور اپنے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھا لیے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
— Junaid Akbar (@JunaidAkbarMNA) October 8, 2026
جنید اکبر نے اس صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کڑے الفاظ میں سوال اٹھایا کہ صوبے کو آخر کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ اس موقع پر انہوں نے وارننگ بھی دی کہ اگر عوام اور کارکنوں نے اس ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی اور اپنے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اس کی تمام تر ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟۔
