تصادم کی سیاست کے بجائے نوجوانوں کی ترقی پر توجہ دیں، سہیل آفریدی لوگوں کو اکٹھا کرکے عدم استحکام پیدا نہ کریں، صوبائی وزیر داخلہ
بلوچستان حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان کا امن، استحکام اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان کا امن، استحکام اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے وزیر اعلی سہیل آفریدی لوگوں کو اکٹھا کرکے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے بجائے عوام کی ترقی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل پر توجہ دیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے بیان میں کیا ۔
انہوں نے کہاکہ ایک جانب بلوچستان حکومت نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے، کھیلوں کے فروغ، تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف پروگرامز کررہی ہے دوسری جانب سیاسی اختلافات کو اس انداز میں آگے بڑھانا کہ ملک میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہو، قومی مفاد کے لیے سودمند نہیں نوجوانوں کو تصادم اور انتشار کی سیاست میں الجھانے کے بجائے انہیں تعلیم، کھیل، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے لوگوں کو اکٹھا کرکے اسلام آباد یا کسی دوسرے شہر کی جانب پیش قدمی کرنے اور محاذ آرائی کی فضاء پیدا کرنے کی سیاست سے مسائل حل نہیں ہوں گے کسی شہر یا دارالحکومت پر چڑھائی کرنا، سڑکوں پر تصادم کی صورتحال پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کے ساتھ کشیدگی بڑھانا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے حالات مزید خراب ہونے، عوامی مشکلات میں اضافے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، تاہم اس حق کو آئین، قانون اور جمہوری روایات کے دائرے میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے اپنے مسائل حل کرے انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ملک کو آگے لے جانے کے لیے سیاسی برداشت، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور تعمیری سیاست کو فروغ دینا ہوگا بلوچستان حکومت عوام کے ساتھ ملکر صوبے کے نوجوانوں اور عوام کی بہتری، امن کے قیام اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
