پشتونخوا میپ کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کا تنازع: بلوچستان ہائیکورٹ نے معاملہ الیکشن کمیشن کو واپس بھجوا دیا
الیکشن کمیشن پارٹی کے ترمیمی آئین پر اعتراضات کا جواب دینے کا موقع فراہم کر کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے

انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے مزید مہلت دینے یا نہ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، عدالت مداخلت نہیں کرے گی: چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل کا تحریری فیصلہ
انتخابی نشان معطل کرنے کا حتمی حکم نہ ہونے کے باعث رٹ پٹیشن تکنیکی طور پر قبل از وقت قرار، ہدایات کے ساتھ نمٹا دی گئی
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے انٹرا پارٹی انتخابات، پارٹی آئین میں ترامیم اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے شوکاز نوٹس کے خلاف دائر آئینی پٹیشن (C.P. No. 1165/2026) پر تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے معاملہ دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پارٹی کے مجوزہ ترمیمی آئین پر اٹھائے گئے اعتراضات کے حوالے سے پشتونخوا میپ کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع دے اور اس کے بعد قانون کے مطابق حتمی فیصلہ صادر کرے۔
یہ آئینی درخواست پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے دائر کی تھی، جس میں الیکشن کمیشن کے 2 جولائی 2026 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے 180 دن کی توسیع کی درخواست مسترد کی گئی تھی، جبکہ 8 جولائی 2026 کو الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت جاری کردہ شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکلا حبیب اللہ ناصر، برخوردار اور اسد خان اچکزئی نے مؤقف اپنایا تھا کہ پارٹی کے سابقہ انٹرا پارٹی انتخابات 21 دسمبر 2022 کو ہوئے تھے، جن کی 3 سالہ مدت 21 دسمبر 2025 کو مکمل ہوئی۔ بعد ازاں پارٹی فورم نے آئین میں ترمیم کر کے عہدیداران کی مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی منظوری دی اور 30 اپریل 2026 کو ترمیمی دستاویز منظوری کے لیے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی جو تاحال زیرِ التوا ہے۔ وائس نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ترمیمی آئین پر فیصلہ نہیں ہوا، اس لیے الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس غیر قانونی ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد ایڈووکیٹ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ درخواست قبل از وقت ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے ابھی کوئی حتمی منفی فیصلہ نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کو پہلے ہی انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے 180 دن کی مہلت دی گئی تھی جو 19 جون 2026 کو ختم ہو گئی، مگر پارٹی الیکشن کرانے میں ناکام رہی۔ مزید برآں، کمیشن نے 21 جولائی 2026 کو پارٹی ترامیم پر اعتراضات اٹھائے تھے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 17(2) اور الیکشنز ایکٹ کے منافی ہیں، مگر پارٹی نے ان کا کوئی جواب جمع نہیں کرایا۔
سماعت کے دوران پشتونخوا میپ کے جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر بیان دیا کہ اگر موقع دیا جائے تو وہ کمیشن کے تمام اعتراضات کا تسلی بخش جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اور اگر الیکشن کمیشن نئے آئین کو تسلیم نہ بھی کرے تب بھی پارٹی پہلے سے رائج آئین کے تحت فوری انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے مزید مہلت دینے یا نہ دینے کا معاملہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا قانونی اختیار اور صوابدید ہے، جس میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔ تاہم، قدرتی انصاف کا تقاضا ہے کہ الیکشن کمیشن پارٹی کی حیثیت یا انتخابی نشان کے حوالے سے کوئی حتمی اقدام کرنے سے قبل پارٹی کے ترمیمی آئین پر اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
عدالت نے پٹیشن نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ:پشتونخوا میپ کے ترمیمی آئین کا معاملہ الیکشن کمیشن کو واپس بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ قانون کے مطابق اس پر فیصلہ کرے۔
پارٹی کو الیکشن کمیشن کے اعتراضات پر اپنا تحریری جواب داخل کرنے کا مناسب اور منصفانہ موقع فراہم کیا جائے۔انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے مزید وقت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کرے گا۔
اس قانونی عمل کی تکمیل کے بعد الیکشن کمیشن، الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت اگلی قانونی کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔
