دہشتگردی کا حل گورنرراج یا ایمرجنسی نہیں، اس سے بحران مزید بڑھے گا، بیرسٹر گوہرخان

ایمرجنسی صوبے اور وفاق دونوں کیلئے نقصان دہ ہوگی، دہشتگردی کے خاتمے پر اتفاق لیکن اختلاف طریقہ کار پر ہے، عمران خان سے بند ملاقاتیں فوری ختم کریں اس سے بہتری آئے گی، چیئرمین پی ٹی آئی کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کا حل گورنرراج یا ایمرجنسی نہیں، اس سے بحران مزید بڑھے گا، ایمرجنسی صوبے اور وفاق دونوں کیلئے نقصان دہ ہوگی، دہشتگردی کے خاتمے پر اتفاق لیکن اختلاف طریقہ کار پر ہے، عمران خان سے بند ملاقاتیں فوری بحال کریں اس سے بہتری آئے گی۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے پشاور میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی مداخلت نے صوبائی حکومت کی رٹ کمزور کر دی – حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت عملاً گورنر راج ہے، صرف اعلان باقی ہے۔ دہشت گردی کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں، اس سے بحران مزید بڑھے گا- ایمرجنسی صوبے اور وفاق دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی- دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق، اختلاف صرف طریقۂ کار پر ہے- انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ایک سال سے بند ملاقاتیں فوری ختم کریں اس سے بہتری آئیگی ۔

ہمارے 3 وزرا سمیت 9 ایم پی ایز اور 8 ایم این ایز کو اٹھایا گیا ہے۔ خان صاحب کی بہنیں اور کزن جیل میں ہیں – یہ تشویشناک ہے- ملکی قیادت ہٹ دھرمی چھوڑے، سیاسی بصیرت دکھائے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عملاً صوبے میں اس وقت گورنر راج ہے، صوبائی حکومت کام کررہی ہے وفاقی حکومت کی مداخلت سے صوبہ کمزور ہوگیا ہے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنرراج کی کوئی ایسی صورتحال ہے تو وفاقی یا صوبائی اپیکس کمیٹی کی میٹنگ بلا لیں، تمام سیاسی جماعتوں کی سن لیں تاکہ عوام اس کی اونرشپ لے لیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنرراج سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے، اس وقت خیبر پختونخوا کسی مزید تجربہ کا متحمل نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ 6 مطالبات کے لیے تھا، ہمارے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں، ملک کی سیاسی قیادت کو بصیرت سے کام لینا ہوگا، ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے تناﺅ بڑھے، ہمارے 8 ایم این اے اور 9 ایم پی اے اٹھائے گئے ہیں یا غائب ہیں.

WhatsApp
Get Alert