ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی؛ پشاور میں غیرمعمولی سکیورٹی الرٹ
ریڈ زون کے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کردیا گیا، شہر بھر میں پولیس کی اضافی نفری تعینات، بی آر ٹی سروس معطل

پشاور(قدرت روزنامہ)خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں ممکنہ گورنر راج، ایمرجنسی کے خدشات اور سکیورٹی کی غیر معمولی صورتِ حال کے پیش نظر شہر کے مختلف حصوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کردی گئی۔
بحوالہ ذرائع میڈیا رپورٹس کے مطابق سیاسی و سکیورٹی کشیدگی کے باعث پشاور کے اہم ترین اور حساس مقامات جن میں باچاخان چوک، خیبر روڈ اور فردوس چوک شامل ہیں، وہاں پر بھاری کنٹینرز رکھ کر مرکزی شاہراہوں کو آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، شہر بھر میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفری گشت کر رہی ہے اور سیکیورٹی انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کی جا چکی ہے، اس ضمن میں ٹرانس پشاور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عوام کی حفاظت کے پیشِ نظر بی آر ٹی بس سروس عارضی طور پر معطل کی گئی ہے، تاہم بی آر ٹی کا تمام عملہ ڈیوٹی کی جگہ اسٹیشنز پر ہی موجود رہے گا۔
بتایا جارہا ہے کہ شہر میں شاہراہوں کی اچانک بندش، کنٹینرز کے نفاذ اور بی آر ٹی کی معطلی کی وجہ سے عام شہریوں اور مسافروں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب کہ دوسری جانب صوبے میں سیاسی تبدیلی اور آئینی اقدامات کی گرمی کے دوران گورنر ہاؤس پشاور میں تمام عملے کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کردی گئی ہیں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تمام اہلکاروں اور افسران کو بلا تاخیر گورنر ہاؤس پہنچنے اور الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
