خیبرپختونخواہ سے متعلق آج کا فیصلہ ہمارے لیے آسان نہیں تھا، محسن نقوی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر کہا ہے کہ آج کا دن ہمارے لیے آسان نہیں تھا، ایک ماہ سے زائد عرصے تک خیبر پختونخواہ حکومت کو اعتماد میں لینے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ملانے کی مسلسل اور مخلصانہ کوششیں کی گئیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ لانگ مارچ کرنے والوں کے مطالبات پر تو لانگ مارچ کے اعلان سے قبل ہی عملدرآمد ہو رہا تھا، چاہے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ہوں، علاج معالجہ ہو یا دیگر امور سب کچھ طے شدہ طریقے سے چل رہا تھا، خود پی ٹی آئی کے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر اس لانگ مارچ کا اعلان کیوں کیا گیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی قيادت کے ساتھ مسلسل دو روز تک تفصیل سے مذاکرات ہوئے اور پچھلی رات پونے 12 بجے تک میں خود ان کے رابطے میں تھا، اسد قیصر نے مذاکرات کے دوران یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، مذاکراتی مسودے میں ہم نے پی ٹی آئی کی خواہش پر پانچ سے چھ تبدیلیاں بھی کیں لیکن بعد میں اچانک معلوم ہوا کہ ان کی طرف سے ایک اور ہی مسودہ سامنے لا کر پیش کر دیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی سے بھی متعدد ملاقاتیں ہوئی تھیں، آخری کال میں نے انہیں رات پونے 12 بجے کی اور کہا کہ ابھی بھی ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم اس ابتر صورتحال کو ٹال سکتے ہیں، چیزیں بہت آگے نکل چکی ہیں لیکن صبح والے اقدام کو کسی طریقے سے مؤخر کیا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ دوسری جانب سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا، جس کے بعد حکومت کے پاس آئینی قدم اٹھانے کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔

WhatsApp
Get Alert