خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ امن، قانون کی بالادستی اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے: مینا مجید بلوچ
کوئی بھی رہنما یا سیاسی جماعت آئین اور ریاست سے بالا تر نہیں ہو سکتی، انتشار اور قانون شکنی ہرگز قابلِ قبول نہیں

سیاسی رہنمائی کے نام پر ہجوم کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرنا درست نہیں، تمام سیاسی جنگیں آئینی دائرے میں لڑی جانی چاہئیں
پاکستان کی سلامتی اور ریاستی استحکام کے سامنے تمام جماعتی مفادات کی کوئی حیثیت نہیں، قومی مفاد کو ہر ترجیح پر فوقیت حاصل ہے
صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ کی جانب سے کے پی میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی بھرپور تائید و حمایت
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کی صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ امن و امان کے قیام، ریاستی رٹ کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ملک میں امن، استحکام اور ریاستی نظم و نسق کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کوئی لیڈر، سیاسی جماعت یا سیاسی قیادت آئین، قانون اور ریاست سے بالا تر یا سپیریر نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن اس حق کو انتشار، قانون شکنی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا ذریعہ ہرگز نہیں بنایا جا سکتا۔
مینا مجید بلوچ نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کی رہائی یا بحالی کے نام پر ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے، سرکاری نظام کو مفلوج کرنے اور ریاست کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے سیاسی رہنماؤں نے بھی قید و بند اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کیا، مگر اپنے دفاع اور سیاسی جدوجہد کے لیے ہمیشہ آئینی و قانونی راستے اختیار کیے۔ متعلقہ سیاسی عناصر کو بھی چاہیے تھا کہ وہ انتشار اور تصادم کے بجائے آئینی فریم ورک (constitutional framework) میں رہتے ہوئے اپنی قانونی جنگ لڑتے۔ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے اور امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرنے سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے قومی استحکام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مخدوش صورتِ حال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خدشات کے تناظر میں وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ قومی مفاد اور ریاستی استحکام کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی حکومت کی اولین اور بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور آئین و قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ہے۔
صوبائی مشیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاسی وابستگیاں اور جماعتی مفادات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن جب معاملہ پاکستان کے امن، سلامتی اور ریاستی استحکام کا ہو تو قومی مفاد کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت دی جانی چاہیے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ مشکل حالات میں جذباتی ہونے کے بجائے آئین، قانون اور قومی ذمہ داری کا راستہ اختیار کرے۔
مینا مجید بلوچ نے گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی پُرزور حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کی بحالی، ریاستی رِٹ کے مؤثر نفاذ اور قانون کی حکمرانی کو بھرپور تقویت ملے گی۔
پاکستان پہلے، سیاست بعد میں
