کے پی میں حکومت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے پر مٹھائیاں تقسیم کرنے والوں نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا، غیر آئینی اقدامات جمہوریت پر کاری ضرب ہیں: سینیٹر مولانا عبدالواسع
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان ملک کے استحکام کی علامت ہیں، ان کے مشوروں کو نظرانداز کرنے والے ہر دور میں رسوا ہوئے

بلوچستان میں وزراء کے لیے سفر کرنا مشکل ہے مگر وہاں سب اچھا کی تصویر پیش کی جاتی ہے، یہ دوہرا معیار جمہوریت سے مذاق ہے
سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کے خاتمے پر مفتی محمود کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ جے یو آئی اقتدار سے زیادہ اصولی مؤقف کو اہمیت دیتی ہے
جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کا جامعہ فریدیہ لورالائی کی سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب اور تفصیلی بیان
لورالائی (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے پر مٹھائیاں تقسیم کرنے والوں نے تاریخ اور مکافاتِ عمل سے سبق نہیں سیکھا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان ملک کے استحکام کی علامت ہیں، اور ان کے مشوروں کو نظرانداز کرنے والے ہر دور میں رسوا ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ضلع دکی کے بعد جامعہ فریدیہ لورالائی کی سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا عبدالواسع نے مدارس کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کے لیے دینی مدارس کی خدمات قابلِ تحسین ہیں جنہیں آبِ زر سے لکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انہوں نے دینی تعلیم کے فروغ اور نئی نسل کی علمی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دورہ دکی کے دوران انہوں نے جامعہ دارالعلوم پرانا دکی میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور شیخ الحدیث مولانا محمد دین، مولوی عین الدین کے بھائی، مولوی عبدالغفور اخوندزادہ کے والد، مولانا عبدالمجید ندیم کے والد شیخ الحدیث مولوی عبد الستار اور مرحوم عبدالرؤوف اخوندزادہ کے انتقال پر ان کے لواحقین سے تعزیت و فاتحہ خوانی کی۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دوٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمہوریت کے سینے میں خنجر گھونپنے والے ہی جب جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار بننے کا دعویٰ کریں تو اس سے بڑا سیاسی تضاد اور المیہ کیا ہوگا۔ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے بعد اب اعلانیہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا فیصلہ کمزور ہوتی جمہوریت پر ایک اور کاری ضرب اور عوام کے حقِ حکمرانی کو سلب کرنے کی خطرناک سازش ہے۔
انہوں نے کڑے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حکومتی رٹ کی صورتِ حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، صوبائی حکومت کی عمل داری اور امن و امان کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں یہاں تک کہ وزراء کے لیے بھی بلاخوف و خطر سفر کرنا مشکل ہو چکا ہے، لیکن جب سیاسی بیانیہ ان حلقوں کی خواہشات سے ہم آہنگ ہو تو ہر طرف سب اچھا کی تصویر پیش کی جاتی ہے، جو حکومتی دعوؤں کی قلعی کھولنے کے ساتھ جمہوری اصولوں سے سنگین مذاق بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر اپنی مرکزی جماعت کی ہدایات اور آئندہ کے لائحہ عمل کی منتظر ہے، ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ منتخب نمائندوں کو غیر آئینی اور ماورائے مینڈیٹ اقدامات کے ذریعے اقتدار سے محروم کرنا جمہوری مستقبل کے لیے تباہ کن ہوگا۔
مولانا عبدالواسع نے یاد دلایا کہ بلوچستان آج بھی گورنر راج کے تلخ اثرات بھگت رہا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جمہوری تسلسل توڑنے کے نتائج کبھی خوش آئند نہیںاتے۔ انہوں نے کہا کہ فروری 2024 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے والے عناصر آج ایک بار پھر ایمرجنسی کے ذریعے آئین اور عوامی حقِ حکمرانی کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ انہوں نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت ختم کی گئی تو مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمود نے اس کے خلاف احتجاجاً بطور وزیراعلیٰ صوبہ سرحد کی حکومت سے استعفیٰ دے کر ثابت کیا تھا کہ جے یو آئی کے نزدیک اقتدار سے زیادہ اصولی مؤقف، صوبائی خودمختاری اور جمہوریت کا دفاع اہم ہے۔
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ حکمران طاقت کے استعمال، سیاسی انتقام اور غیر جمہوری تجربات کے بجائے آئینی حدود، پارلیمانی بالادستی اور عوامی فیصلے کا احترام کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کی جدوجہد میں جمعیت اپنے اصولی مؤقف سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔
