خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ غیرآئینی، غیرقانونی، بدنیتی پر مبنی، بنیادی حقوق اور جمہوری مینڈیٹ کے خلاف ہے، اقدام کو کالعدم اور غیر قانونی قرار دیا جائے؛ درخواست گزار کا مؤقف

پشاور (قدرت روزنامہ)خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے وفاقی حکومت کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا، جس میں عدالت عالیہ سے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دے کر فوری طور پر معطل اور کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ درخواست پشاور ہائیکورٹ میں سلمان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم پاکستان اور گورنر خیبر پختونخواہ کو باضابطہ طور پر فریق نامزد کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت عالیہ کے سامنے مؤقف اپنایا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، جو آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق اور جمہوری نظام کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کیخلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر
درخواست سلمان ایڈووکیٹ نے دائر کردی ہے
درخواست میں صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو فریق بنایا گیا ہے.
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی، غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی، بنیادی حقوق اور جمہوریت کے مینڈیٹ کے خلاف ہے.درخواست
ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کو کالعدم اور غیر قانونی قرار دیا جائے. درخواست میں استدعا
درخواست کے حتمی فیصلے تک اس گورنر راج کے اعلامیہ کو معطل کیا جائے ، درخواست
— Umer Inam (@UmerInamPk) October 12, 2026
دائر کردہ درخواست کے تفصیلی متن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا یہ قدم خیبر پختونخواہ کے عوام کے واضح جمہوری مینڈیٹ پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، آئین کے تحت عوام کی منتخب کردہ صوبائی حکومت اور نمائندوں کو بلاجواز انتظامی طریقوں سے معطل یا غیر فعال کرنا آئینی حدود سے تجاوز ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عالیہ اس اقدام کی آئینی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دے، اور جب تک اس کیس کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آتا، تب تک کے لیے گورنر راج کے جاری کردہ اعلامیے کے عملدرآمد اور اثرات کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ میں وفاق کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا ہے، جس کے بعد صوبائی کابینہ تحلیل کردی گئی اور انتظامی امور چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے، اس کے علاوہ صوبے میں امن و امان کی قائم رکھنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی خدمات بھی طلب کی گئی ہیں۔
