پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا، عظمیٰ بخاری


لاہور (قدرت روزنامہ) وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا، تاہم اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا،اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، ان کے بارے میں جیسے ہی کوئی مصدقہ اطلاعات موصول ہوں گی ان کے اہل خانہ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

یاد رہے لاہور سے عوام راج پارٹی کے سربراہ اور اینکرپرسن اقرار الحسن کو ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق اقرار الحسن کو مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (ای سی سی آئی اے) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا، تاہم ادارے کی جانب سے اب تک ان کی رسمی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں حراست میں لیے جانے کی وجوہات سامنے آ سکی ہیں، اقرار الحسن کی موجودہ جگہ اور قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی، جبکہ این سی سی آئی اے کے حکام اس معاملے پر اپنا باضابطہ مؤقف دینے سے گریزاں ہیں۔

تاہم اقرارالحسن کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے این سی سی آئی اے کے مقامی تھانے سے بھی رابطہ کیا، لیکن وہاں سے بھی کوئی معلومات نہیں مل سکیں، اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ ہم رات کے وقت سو رہے تھے کہ اچانک گھر کے باہر سے شدید شور اور زور زور سے آوازیں آنا شروع ہوگئیں کہ اقرار کو باہر نکالو ورنہ ہم سب کچھ توڑ دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اہلکار دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور مجھے دھکے دیئے، جس کے بعد دو افراد نے اقرار الحسن کو زبردستی پکڑ لیا، ان کو حراست میں لیتے وقت اہلکار گھر سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی ساتھ لے گئے اور جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کا پورا نظام بھی اکھاڑ کر ساتھ لے گئے، جب کہ ویڈیو بنانے کی کوشش پر ان سے بھی فون چھین لیا گیا۔ فرح اقرار نے کہا کہ ایک خاتون اہلکار کے بازو پر این سی سی آئی لکھا ہوا تھا۔

WhatsApp
Get Alert