خیبرپختونخواہ میں مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام ایک بدترین اقدام ہے، اسد عمر

اس 11 رکنی کمیٹی میں پختونخواہ سے صرف ایک ممبر شامل ہے جوکہ آئین کے تحت صوبائی خودمختاری کی واضح خلاف ورزی ہے، صوبہ چلانے کا اختیار کےپی لوگوں کے پاس ہونا چاہیئے، سابق وزیر کا مشورہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) سابق وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام ایک بدترین اقدام ہے، اس 11 رکنی کمیٹی میں پختونخواہ سے صرف ایک ممبر شامل ہے جوکہ آئین کے تحت صوبائی خودمختاری کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام جو روزانہ خیبر پختون خواہ میں کام کا جائزہ لے گی اور فیصلے کرے گی، ایک بدترین اقدام ہے۔
اس 11 رکنی کمیٹی میں پختون خواہ سے صرف ایک ممبر ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ یہ آئین میں دی گئی صوبائی خودمختاری کی واضح خلاف ورزی اور صوبے کے عوام کو انتہائی منفی پیغام ہے۔ جتنے دن بھی گورنر راج چلنا ہے خیبر پختون خواہ ہی کے لوگوں پر مشتمل جو ایڈوائزری کونسل بنی ہے اس کو صوبہ چلانے کا اختیار دیں۔
اور جلد سے جلد گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کرنے کے لئے جو لوگ مانیٹرنگ کمیٹی میں نامزد ہیں یہ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کریں۔
انہوں نے مزید اپنے ٹویٹ میں کہا کہ سہیل آفریدی کی کارکردگی کے بارے میں آپ کی جو بھی رائے ہو، یہ حقیقت ہے کہ آج وہ پختون خواہ میں خصوصی طور پر اور پاکستان میں عمومی طور پر ایک ہیرو ہیں۔ آپ کو سوچنا نہیں چاہیے کہ جس کو آپ گرفتار کرتے ہیں وہ عوام کی نظر میں ہیرو کیوں بن جاتا ہے؟ عوام اور آپ کی سوچ میں خلیج کیوں؟
یاد رہے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید آلات، بکتر بند گاڑیاں، مؤثر اسلحہ اور مطلوبہ نفری فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، ایڈوائزری کونسل کے اراکین، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے تمام متعلقہ اداروں کو دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مربوط، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

WhatsApp
Get Alert