پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر سنجیدگی سے بات چیت کی جائے، کسی قسم کی گڑبڑ یا الفاظ کا ہیر پھیر نہ کیا جائے، یہاں دو کرسیاں رکھیں، شہباز بھائی ہوں اور میں ہوں، بسم اللہ بات کرتے ہیں، محمود خان اچکزئی

آپ کی طرف سے ظلم اور ناانصافی کی جا رہی ہے، پشاور میں جو کچھ کیا جا رہا ہے اسے بند کیا جائے، محمود خان اچکزئی


ایمرجنسی کا نفاذ بالکل غلط ہے؛ یہ کون سی ایمرجنسی ہے اور کس مقصد کے تحت نافذ کی گئی ہے؟ یہ حکومت ناجائز، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، محمود خان اچکزئی
ہمارا ملک خارجی طور پر یک و تنہا ہو گیا ہے۔ آپ کے ہمسائے سب سے آپ کے سِنگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کیوں؟ روس کے ذمہ دار ترین لوگوں نے کہہ دیا کہ افغانستان کی حکومت وہاں کی صحیح حکومت ہے، نیشنل گورنمنٹ ہے۔ ہم میں پھر کیا رہا؟، محمود خان اچکزئی
عمران خان کے ساتھ جو باتیں کی ہیں، یا جہاں آپ کی بات اٹک گئی ہے، آپ خود اس کا تدارک نہیں کر سکتے۔ سیاسی شخصیات پر بھروسہ کریں،، محمود خان اچکزئی
اگر آپ نے یہ غلطیاں کی تو پاکستان جل جائے گا۔ خدا کے لیے عقل کے ناخن لیں، آئیں اور بات کریں۔” قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان تمام ایمرجنسیز اور معاملات کو چھوڑیں۔، محمود خان اچکزئی
ملک اندرونی بدمعاشیوں اور ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے ڈوب رہا ہے، بچانے کا ایک راستہ ہے پاکستان کا آئین، پاکستان کی پارلیمنٹ، یہاں جمہوری نظام، محمود خان اچکزئی
الیکٹڈ پارلیمنٹ پاکستان کی چوبیس کروڑ عوام کی پارلیمنٹ اتنی گئی گزری کہ کوئی آ کے بس ہمیں دیکھے۔ یہاں کوئی فاتح اور مفتوح نہیں ہے۔ یہ رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔، محمود خان اچکزئی
پینتیس سال بلا شرکتِ غیرے حکومت کی۔ کون سا انقلاب؟ ان کا ایک ایک فقرہ حکمِ آخر تھا۔ ان کے جانے کے بعد پاکستان دہشت گردوں کا اڈا بنا، افغانستان کی جنگ میں ہم کود پڑے ابھی دہشت گردی کے چرچے ہو رہے ہیں، محمود خان اچکزئی
فاٹا میں ایک ایک کرکے بارہ سو سماجی شخصیات کو قتل کیا گیا، وہ شریف لوگ ہیں جو آج بھی پاکستان زندہ باد کہتے ہیں، تخت لاہور بڑا ظالم ہے، جب آپ ہمارے حق خودداریت، حق ووٹ کو طاقت کے بل بوتے پر چھیننے کی کوشش کرینگے تو ہم سب آپ کے خلاف کھڑے ہوں گے، محمود خان اچکزئی
اگلا گورنر راج پانیوں، مائنز، نہروں کے قبضے پر سندھ میں لگے گا اور پھر آپ کو یاد آئے گا کہ ہم نے کیا غلطی کی۔ جناب سپیکر صاحب اب بھی وقت ہے کہ ان فیصلوں کو واپس لیں۔آئیں سب توبہ کریں، محمود خان اچکزئی
پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں،پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی کے وطنوں پر ان کے عوام کا راج ہوگا تب پاکستان بچ جائے گا۔، محمود خان اچکزئی
جب آپ قوموں کی زمینیں سو روپے فی ایکڑ الاٹ کریں گے، معدنیات (مائنز) پانیوں پر قبضہ کریں گے اور جب آپ قوموں کی ہستیوں پر قبضہ کریں گے تو بغاوت ہو گی، باڑہ میں چھوٹے چھوٹے بچے بالکل پرندوں کی طرح گولیوں سے گر رہے تھے، آخر کب تک؟ اس دن سے ڈرو، خدا کو مانو! خدا کو مانو اور لوگوں کو تنگ مت کرو، محمود خان اچکزئی
ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، لیکن جب ریاست اپنے ہی عوام کے خلاف لڑتی ہے، تو پھر عوام مجبور ہو کر ملک سے باہر دیکھتے ہیں۔، محمود خان اچکزئی
اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر کو مسلط فارم47کی حکومت نے ایک بار پھر سنسر کردیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میرے دوست نے بڑی دیدہ دلیریا سے اچھے الفاظ کا استعمال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خیبر پشتونخوا میں دہشت گردی کو نہیں روکا جارہا تھا یا وہ اس کی معاونت کررہے تھے۔ دہشت گردی کی معنی اگر ہم لیں کوئی بُرا نہ مانے میری کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، گزشتہ انتخابات جس کے نتیجے میں ہمارے وزراء کی فوج ظفر موج بیٹھی ہوئی ہیں آپ سب خدا کو حاضر وناظر جان کر اپنے بہوں، بہن بیٹیوں کے سامنے یہ کہہ دیں کہ ہم الیکشن جیت چکے ہیں ہم سلنڈر کرجائینگے۔ جناب سپیکر! یہ حکومت 8فروری 2024کو زروزور کی بنیاد پر، وردی پوش ہمارے اداروں کی سپورٹ سے 24کرورڑ انسانوں کو دہشت زدہ کرکے ایک دہشت گرد حکومت ہے۔ پیسے، بندوق کے زور پر، اسمبلیاں بیچی گئی اس حکومت نے اپنی اسمبلیاں خریدی ہیں اور اپنی مرضی کی ایک دہشت گرد حکومت بنائی ہے۔ اور خیبر پشتونخوا کا قصور یہ ہے کہ اُس نے اس دہشت گردی کے مقابلے میں اپنے عوام کی ہمت سے اپنے صوبہ کو بچایا ہے۔تخت لاہور بڑا ظالم ہے جناب سپیکر۔ بنگالیوں پارٹیوں کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے متحدہ محاذ بنایا اور مغربی پاکستان کی جو پارٹیاں تھیں اُنہیں شکست دی۔ اُس کی سزا دینی تھی ان کو۔ مجیب الرحمن مسلم لیگی کارکن تھا جسے غدار اور پتہ نہیں کیا کیا کہا گیا وہ سائیکل پر بیٹھ کر مسلم لیگ کے لیے کام کرتا تھا۔ مشرقی پاکستان کے 48فیصدسے زیادہ لوگوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔آپ نے مجبور کیا اس رویہ سے کہ میری بات مانو!ورنہ۔۔۔۔ جس طرح شیخ مجیب کوگھر سے گرفتار کرکے لاہور لے آئیں آپ نے یہ مہربانی کی کہ آپ نے ہمارے خیبرپشتونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو پکڑ کر ہاتھ پاؤں باندھ کر یہاں نہیں لے آئیں۔ یہ بھی کردی جیئے۔ عمران خان اچھا تھا یا بُرا میں ماضی میں نہیں جاتا۔ لیکن آپ نے اُس کے ساتھ مقابلے کے لیے اُس پر حملہ کیا اس کا انتخابی نشان چھین لیا۔ اُس کی پارٹی کے کارکنوں نے یہ غلطی کی کہ 200انتخابی نشانات پر الیکشن لڑ کر آپ کے تمام تماشہ کو اُلٹا کردیا۔ آپ انہیں اور ملک کے 24کرورڑ انسانوں کا اس کی سزا دے رہے ہیں۔ بُرائی کی جڑ یہ حکومت ہے اور اس بُرائی کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے خیبر پشتونخوا وزیر اعلیٰ ٹھیک تھا نہ وہ گالی دیتا نہ پتھر مارتا تھا۔ کہ بھائی اس بُرائی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہو۔ شہباز بھائی یہاں نہیں ہے لیکن یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ جب آپ ہمارے حق خودداریت، حق ووٹ کو طاقت کے بل بوتے پر چھیننے کی کوشش کرینگے تو ہم سب آپ کے خلاف کھڑے ہوں گے سارے لوگ سارے صوبے بلوچستان، پنجاب، سندھ سب۔ مجھے دُکھ ہوتا ہے کہ سندھی بھائی اس بلا میں شریک ہوئے ہیں۔ اگلی گورنر راج پانیوں، مائنز، نہروں کے قبضے پر سندھ میں لگے گا اور پھر آپ کو یاد آئے گا کہ ہم نے کیا غلطی کی۔ جناب سپیکر صاحب اب بھی وقت ہے کہ ان فیصلوں کو واپس لیں۔آئیں سب توبہ کریں، اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علماء، مسلم لیگ، اے این پی تمام پارٹیاں بسم اللہ کریں کہ جو غلطیاں ہم نے کیں،یہاں ایک پارلیمنٹ ہوگی وہ طاقت کا سرچشمہ ہوگی،پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی کے وطنوں پر ان کے عوام کا راج ہوگا تب پاکستان بچ جائے گا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جناب سپیکر لوٹ کیا ہوتی ہے۔ سرائیکی علاقے کی چولستان کی زمینیں ایک سو روپے میں الاٹ ہوئی ہیں، ایک سو روپے میں! جب آپ قوموں کی زمینیں سو روپے فی ایکڑ الاٹ کریں گے، معدنیات (مائنز) پانیوں پر قبضہ کریں گے اور جب آپ قوموں کی ہستیوں پر قبضہ کریں گے تو بغاوت ہو گی۔ کل آپ نے دیکھا یا نہیں دیکھا باڑہ میں چھوٹے چھوٹے بچے بالکل پرندوں کی طرح گر رہے تھے۔چھوٹے چھوٹے بچے گولیوں سے گر رہے تھے، آخر کب تک؟ اس دن سے ڈرو، خدا کو مانو! خدا کو مانو اور لوگوں کو تنگ مت کرو۔”آپ نے یہی طریقہ بنگال میں بھی استعمال کیا کہ بنگالی چھوٹے چھوٹے لوگ ہیں، یہ لڑ نہیں سکتے اور ان کی حیثیت کیا ہے؟ جب آپ نے مارشل لا لگایا تو ایک شریف جرنیل نے انکار کیا۔ جب آپ نے مارشل لا لگایا تو صاحبزادہ یعقوب نے انکار کیا کہ میں اپنے لوگوں کے خلاف گولیاں نہیں چلاؤں گا۔ پھر آپ نے ایک اور آدمی بھیجا جس نے کہا کہ ہمیں زمین چاہیے، ہمیں بنگالی نہیں چاہئیں؛ تو پھر کیا ہوا؟یہاں ریاست کی بات ہوئی کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، ریاست بچوں کو پالتی ہے اور ریاست لوگوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرتی ہے۔ لیکن جب ریاست اپنے ہی عوام کے خلاف لڑتی ہے، تو پھر عوام مجبور ہو کر ملک سے باہر دیکھتے ہیں۔ ہم نے بنگالیوں کے ساتھ تماشا کیا، بنگالی بھاگ گئے، مکتی باہنی بنی، اس کے نتیجے میں ہمارا ملک ٹوٹ گیا۔اور جس آدمی نے یہ ساری بربادی پھیلائی تھی، اس کو ہم سینیٹر بنا کر یہاں لے آئے۔ ہم نے اس کو یہ تمغہ دیا کہ تم نے بڑا اچھا کیا، بہت بڑا کلیان کیا، لہٰذا آپ بھی آؤ سینیٹر بن جاؤ۔یہ رویہ بربادی کا ہے، آئیں، بسم اللہ کریں، آئیں اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔ آئیں صوبوں کو ان کے جو اختیارات ہیں وہ دیں۔ سندھی، بلوچ، پشتون، سرائیکی اور آپ کا غریب پنجابی آپ سے کیا مانگتا ہے۔ہمیں شرم نہیں آتی؟ میرے دوست آصف کبھی کہتے ہیں کہ شرم کرو، حیا کرو۔ ہمیں شرم نہیں آتی جناب اسپیکر؟ عام غریب آدمی کی حالت کیا ہے؟ چھ کروڑ انسان خطِ غربت سے نیچے ہیں اور یہاں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ وہ آدمی آسودہ حال ہے جس کی ماہانہ آمدنی 20 یا 25 ہزار روپے ہے۔ ہماری سول اور ملٹری ایجنسیوں سے کہیں کہ یہ بتائیں کہ موجودہ حکومت کے تین سال میں کتنے کھرب کی کرپشن ہوئی ہے؟ ہماری سول ایجنسیاں، ہماری فوجی ایجنسیاں بتائیں، کیا حکومتیں اس لیے بنتی ہیں کہ منسٹر بنو اور لوٹو؟ منسٹر بنو اور تماشے کرو؟ منسٹر بنو اور عیش کرو! اوباما دو دفعہ امریکہ کا صدر بنا، لیکن اپنا دوسرا دورِ حکومت ختم ہونے کے دو ہفتے بعد وہ ایک ہوٹل میں پلیٹیں صاف کر رہا تھا۔ یہاں ایک آدمی کونسل کا چیئرمین بن جاتا ہے اور کروڑ پتی بن جاتا ہے، یہ کروڑوں روپے کہاں سے آتے ہیں؟ آپ ریاست والو! آپ پاکستان کی بربادی کے ذمہ دار ہیں، آپ پاکستان کے وسائل لوٹ رہے ہیں اور پاکستان کے عوام کا پیٹ پھاڑ رہے ہیں۔ کل کوئی بتا رہا تھا کہ ہمارے 23 ہزار سول اور ملٹری بیوروکریٹس ہیں۔امریکہ میں ایک خاتون کی دو یا تین لاکھ ڈالر مالیت کی قیمتی گاڑی کھڑی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا نام کیا ہے اور آپ کیا کرتی ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ میں کچھ نہیں کرتی، میں پاکستان کے ایک ریٹائرڈ افسر کی بیٹی ہوں۔ کیا ہم ملک کو لوٹ کر کینیڈا اور امریکہ فرار ہونے کے لیے ہی بیٹھے ہیں؟ خدا کے لیے، اس ملک پر رحم کریں۔ خدا کے لیے رحم کریں اس ملک پر، ملک ڈوب رہا ہے اور اندرونی بدمعاشیوں کی وجہ سے ڈوب رہا ہے، ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے ڈوب رہا ہے، بچانے کا ایک راستہ ہے؛ پاکستان کا آئین، پاکستان کی پارلیمنٹ، یہاں جمہوری نظام۔ یہ جو ان کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں، آپ بھی تو شریف لوگ ہیں، آپ کا وزیراعظم ہے۔ پھر آپ کا وزیراعظم فلانے کو جواب دہ ہے، پھر وہ اس کو جواب دہ ہے، شرم کی بات ہے۔الیکٹڈ پارلیمنٹ پاکستان کی چوبیس کروڑ عوام کی پارلیمنٹ اتنی گئی گزری کہ کوئی آ کے بس ہمیں دیکھے۔ ہم اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ یہاں کوئی فاتح اور مفتوح نہیں ہے۔ یہ رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔ ہم سب یہاں ہیں۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم دودھ کی نہریں بہائیں گے۔ انہوں نے پینتیس سال بلا شرکتِ غیرے حکومت کی۔ جنرل ایوب دس سال رہا، اس کے بعد میرے دوست اعجاز الحق صاحب کے والد صاحب ضیاء الحق گیارہ سال رہے۔ اس کے بعد مشرف صاحب گیارہ سال رہے۔ کون سا انقلاب؟ ان کا ایک ایک فقرہ حکمِ آخر تھا۔ جو کچھ وہ چاہتے تھے، جو کچھ کرنا چاہتے تھے، ان کے جانے کے بعد پاکستان دہشت گردوں کا اڈا بنا۔ پاکستان دہشت گردی اور دنیا بھر کے مافیاز کا اڈا بنا۔ افغانستان کی جنگ میں ہم کود پڑے، اور اب دہشت گردی کا رونا رو رہے ہیں۔ دنیا کے سارے دہشت گردوں کی تربیت ہم نے دی، ان کی تربیت کی گئی تھی۔ ابھی دہشت گردی کے چرچے ہو رہے ہیں؛ دنیا کے سارے دہشت گرد آپ نے تربیت کیے، آپ نے تربیت دی۔ پاکستان تمام دنیا کے دہشت گردوں کا اڈا تھا، یہاں عرب، عجم اور دنیا بھر کے بدمعاش موجود تھے۔ چھ ہزار سے اوپر عرب دہشت گرد یہاں آئے تھے، پھر آپ نے انہیں فاٹا میں چھوڑ دیا۔ فاٹا میں ایک ایک کرکے بارہ سو سماجی شخصیات کو قتل کیا گیا، وہ شریف لوگ ہیں جو آج بھی پاکستان زندہ باد کہتے ہیں۔ توبہ کرو، ابھی توبہ کرو، ہم بھی توبہ کرتے ہیں، آپ بھی توبہ کریں۔ آئیں، سندھی عوام سے کہیں کہ سندھ کے وسائل آپ کے حوالے ہیں، بلوچ سے کہیں کہ آپ کے وسائل آپ کے حوالے ہیں۔ ایک جمہوری نظام میں آئیں، بسم اللہ کریں؛ سرائیکی سے کہیں، پنجابی سے کہیں، یہ ملک اب بھی بچ سکتا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا ملک خارجی طور پر یکہ و تنہا ہو گیا ہے۔ اس پارلیمنٹ میں، جہاں شہباز صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، نہ کوئی معزز شخصیت آئی ہے اور نہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ایران نے اتنی بڑی طویل جنگ کیوں چھیڑی، امریکہ آیا، ناٹو آیا، پتہ نہیں کون سی آفت آئی، اس پارلیمنٹ کو کسی نے اعتماد میں نہیں لیا۔ کوئی پوچھتا نہیں، عقلِ کل کوئی نہیں ہوتا، عوام سے پوچھنا پڑتا ہے، عوام کی رائے معلوم کی جاتی ہے۔ ”آپ کے ہمسائے میں جتنے بھی ممالک ہیں، سب سے آپ کے سِنگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کیوں؟ ہندوستان سے تو چلو ایک منجھ ہے، افغانستان سے بھی جھگڑا، ایران سے بھی جھگڑا، فلانے سے بھی جھگڑا، کس بات پہ؟ اس دن روس کے ذمہ دار ترین لوگوں نے کہہ دیا کہ افغانستان کی حکومت وہاں کی صحیح حکومت ہے، نیشنل گورنمنٹ ہے۔ ہم میں پھر کیا رہا؟ ان کا وزیر دفاع آیا ہے، پتہ نہیں آپ نے کیا بات کی ہے۔ اس پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، اس پہ بھروسہ کریں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ابھی بات ہو رہی تھی دھرنے کی۔ دھرنے کے لیے کیا شرط تھی؟ دو متارب گروپ اور دو متارب پارٹیاں ہیں۔ ایک کا لیڈر جیل میں ہے، جبکہ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے دیا جائے۔ آئین کا کون سا آرٹیکل، قرآن پاک کی کون سی آیات، اور دنیا کا کون سا قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ ملک کے سب سے مقبول ترین لیڈر سے ملاقات پر پابندی عائد کی جائے؟ ”آئین کا کون سا آرٹیکل، قرآن کی کون سی آیات، دنیا کا کون سا قانون ایک سب سے پاپولر لیڈر کی ملاقات پر پابندی لگاتا ہے؟ دنیا میں ڈرگ سمگلرز، قاتل، بدمعاش، کسی کی ملاقات پر ایسی پابندی نہیں ہوتی۔ بہن کو بھی گرفتار کرو، بیوی کو بھی گرفتار کرو، بابا کو بھی گرفتار کرو، ملاقات نہیں ہوگی۔ کیوں نہیں ہوگی؟ کیوں؟ اور یہ ایک بہت بڑا مجرمانہ فعل ہے جناب اسپیکر کہ آپ ایک قیدی کو مجبور کرتے ہیں کہ میرے ساتھ معاہدہ کرو۔ چونکہ آپ نے یہ پہلے بھی کیا ہے۔ آپ نے نواز شریف کو اٹک جیل میں بند کر کے، جہاز میں ہتھکڑیاں لگا کے مجبور کیا کہ جاؤ سعودی عرب۔ بے نظیر کو، چھوٹے بچوں کو لے کے تمام پاکستان وہ فرانس سے بھی ادھر پھرتی رہتی تھی، آپ مجبور کر رہے تھے۔ اس کا فائدہ کیا ہوا؟
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ نے عمران خان کے ساتھ جو باتیں کی ہیں، یا جہاں آپ کی بات اٹک گئی ہے، آپ خود اس کا تدارک نہیں کر سکتے۔ سیاسی شخصیات پر بھروسہ کریں۔ آپ نے عمران خان سے کیا گفتگو کی، کیا مطالبات رکھے اور انہوں نے کیا جواب دیا؟ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم عمران خان سے ملاقات کریں گے، ان کی صحت کا جائزہ لیں گے، اور جہاں آپ کا معاملہ الجھ گیا تھا، اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ سچ کے علاوہ کسی اور بات سے یہ الجھاؤ پیدا نہیں ہوگا۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کو صیغہ راز میں رکھیں گے۔ اگر عمران خان کی باتیں غلط ہوئیں، تو ہم سب کے سامنے واشگاف الفاظ میں کہیں گے کہ وہ غلط ہیں۔ اور اگر ان کی باتیں درست ہیں، تو کیا آپ انہیں طاقت کے زور پر دبانا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں ختم کرنا مقصود ہے؟ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم عمران خان سے ملاقات کریں گے اور اس بات کو راز رکھیں گے۔ اگر عمران خان کی کوئی بات غلط ہوئی تو ہم آپ کے سامنے ان سے کہیں گے کہ آپ غلط ہیں، اور اگر ان کا مؤقف درست ہے تو طاقت کا استعمال انتہائی غلط ہے۔سیاسی جماعتوں اور افواجِ پاکستان کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت ایک قدرِ مشترک رہی ہے۔ خدا کے لیے ایسا نہ کریں کہ اس دشمنی میں ایسے اقدامات کیے جائیں۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ بھٹو صاحب کو اس طرح ہٹانا ایک ایسا فیصلہ ہے جو گلے کی ہڈی بن جائے گا جسے نہ نگلا جا سکے گا اور نہ نکالا جا سکے گا۔بھٹو صاحب بارہ مہینے جیل میں رہے اور اس وقت عوامی سطح پر وہ احتجاج نہیں ہو رہے تھے، لیکن آپ نے جس ظالمانہ انداز میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا، آج وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر اس نوعیت کے اقدامات دوبارہ دہرائے گئے اور یہ سنگین غلطی کی گئی، تو اس کے نتائج پورے ملک کے لیے تباہ کن ہوں گے اور پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھٹو صاحب 12 مہینے جیل میں تھے، جلوس نہیں نکل رہے تھے۔ آپ نے جس ظالمانہ انداز میں ان کو، ان کی بیٹی کو اور ان کے بیٹوں کو مارا، آج بھٹو قلندر سے بھی بڑا پیر بن گیا ہے۔ کیا عمران خان کو بھی قلندر بنانا ہے؟ کیا یہ غلطی دوبارہ کرنی ہے؟ اگر آپ نے یہ غلطیاں کی تو پاکستان جل جائے گا۔ خدا کے لیے عقل کے ناخن لیں، آئیں اور بات کریں۔”
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان تمام ایمرجنسیز اور معاملات کو چھوڑیں۔ آپ پشتون و بلوچ علاقوں میں… عام قبائلی عوام جب مخالفت کرتے ہیں تو فوراً بات بندوق پر آ جاتی ہے۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ لوگوں نے بندوق نہیں اٹھائی، خدا نخواستہ۔ وزیرستان میں آپ معدنیات پر قبضہ کر رہے ہیں، وہاں کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سیدھی بات کریں، آج آپ یہ بتائیں کہ کشمیریوں نے کیا گناہ کیا تھا؟ ایک سوچ کے تحت آپ نے انہیں نشانہ بنایا۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے کیا گناہ کیا تھا؟ یہ بندوق کا شوق، یہ مہربانی کریں، یہ بہت خطرناک ہے، یہ ملک کو توڑ دے گا۔ اور ہم اپنی بساط کے مطابق کوشش کریں گے۔ ہم اس حکومت یا کسی دوسری حکومت کو پاکستان کو نقصان پہنچانے یا کمزور کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، بلکہ ہم اس کے آگے ڈٹ جائیں گے۔ خدارا! اس روش کو فوری طور پر روکا جائے اور عوام سے براہ راست بات چیت کی جائے۔ پاکستان کوئی محدود خطہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان بہت وسیع ہے۔ یہ ناانصافیاں اور غیر آئینی اقدامات کہاں درج ہیں؟ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر سنجیدگی سے بات چیت کی جائے، کسی قسم کی گڑبڑ یا الفاظ کا ہیر پھیر نہ کیا جائے، آپ کی طرف سے ظلم اور ناانصافی کی جا رہی ہے، پشاور میں جو کچھ کیا جا رہا ہے اسے بند کیا جائے۔ ایمرجنسی کا نفاذ بالکل غلط ہے؛ یہ کون سی ایمرجنسی ہے اور کس مقصد کے تحت نافذ کی گئی ہے؟ آپ خود عوام میں خوف و ہراس پھیلا کر اور جبر کے ذریعے اقتدار پر قابض ہیں۔ یہ حکومت ناجائز، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ خود غیر آئینی طریقے اختیار کر کے دوسروں کو ہٹانا درست نہیں۔ ”اسے روکیں! خدا کے لیے اسے روکیں! لوگوں سے بات کریں۔ آئیں، الیکشن کمیشن ہے یا محمود خان اچکزئی ہے، بیٹھیں۔ یہاں کرسیاں رکھیں، میں بیٹھتا ہوں اس کے ساتھ۔ پاکستان صرف ایک کپ کا آف شور ہے؟ ایک کپ کا آف شور ہے بس؟ پاکستان تو بہت بڑا ہے۔ یہ کہاں لکھا ہوا ہے؟ کس قانون میں لکھا ہوا ہے؟ کیمرے فلانے درخت کے نیچے ہوں؟ ابھی یہاں دو کرسیاں رکھیں، یہ پارلیمنٹ ہے۔ یہاں دو کرسیاں رکھیں، شہباز بھائی ہوں اور میں ہوں، بسم اللہ بات کرتے ہیں۔ گڑبڑ نہ کریں! الفاظ سے ہیر پھیر نہ کریں ظلم کر رہے ہیں، ناانصافی کر رہے ہیں۔”ایسا نہ کریں، یہ ظلم اور ناروا سلوک ہو رہا ہے۔ یہ سراسر غلط ہے، ایمرجنسی بھی غلط ہے، آخر یہ کون سی ایمرجنسی ہے اور کس لیے ہے؟پشاور میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، براہِ کرم اسے بند کریں۔ #

WhatsApp
Get Alert