سہیل آفریدی نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کو نااہل قرار دیا گیا تو پھر پلان بی اور سی ہوگا، مشتاق یوسفزئی
مگر پھر ہم نے دیکھا کہ کوئی پلان بی اور سی نہیں تھا، پی ٹی آئی کے جتنے سینئر لوگ تھے ان کو نئے لوگ جاسوس قرار دیتے تھے، اسی لئے وہ احتجاج میں آگے نہیں آئے، سینئر صحافی مشتاق یوسفزئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی مشتاق یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کو نااہل قرار دیا گیا تو پھر پلان بی اور سی ہوگا، مگر پھر ہم نے دیکھا کہ کوئی پلان بی اور سی نہیں تھا، پی ٹی آئی کے جتنے سینئر لوگ تھے ان کو نئے لوگ جاسوس قرار دیتے تھے، اسی لئے وہ احتجاج میں آگے نہیں آئے۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی پرانے لوگوں نے ان کو بات چیت اور مذاکرات کرنے کا کہا تو ان پر الزام عائد کیا گیا کہ یہ ڈرتے ہیں اور جاسوس ہیں، پرانے لوگو ں نے احتجاج کو اس لئے جوائن نہیں کیا کہ ان سب کو پتا ہے کہ ہمارے ورکر مشتعل ہوجاتے ہیں، جیسے9مئی کے واقعات ہوئے اور بعد میں لیڈرشپ پرکیسز بن گئے، اس لئے پرانے لوگوں کو خطرہ تھا کہ اب دوبارہ پھر ان پر کیسز بن جائیں گے۔
سینئر لیڈرز مشورہ کررہے ہیں کہ کس طرح پارٹی کو سنبھالا جائے۔ شوکت یوسفزئی کو شوکاذ نوٹس دینے کی بات ہو رہی تھی،، نئے لوگ جذباتی تھے جن کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے۔ پریشان وہی لوگ ہیں جو پرانے لوگ تھے۔ اسد قیصر، شاہرام تراکئی اور شوکت یوسفزئی سمیت سینئر پرانی قیادت رابطوں کا آغاز کر چکی ہے کہ پارٹی کو اب اس مشکل سے کیسے نکالنا ہے، سہیل آفریدی سے میں نے سوال کیا تھا کہ اگر آپ کو نااہل قرار دے دیا گیا تو آپ کیا کریں گے تو انہوں نے کہا پلان بی اور سی ہوگا۔
مگر ہم نے دیکھا ہے کہ کوئی پلان بی اور سی نہیں تھا۔ اسی طرح بیوروچیف وی نیوز ویب سائٹ لحاظ علی نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ایک میٹنگ میں سوال رکھا کہ مجھ پر سوشل میڈیا کی جانب سے شدید دباو ہے کہ میں اسلام آباد کی طرف مارچ کیوں نہیں کر رہا۔ میٹنگ میں اسد قیصر اور تیمور جھگڑا نے شدید مخالفت کی،، سہیل آفریدی نے دباو میں اعلان کر دیا بعد میں بیرسٹر گوہر کے زریعے محمود خان اچکزئی سے درخواست کی گئی کہ لانگ مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کریں تو انہوں نے انکار کر دیا کہ آپ نے خود اعلان کیا خود نمٹیں۔
۔ کیا وجہ ہے پی ٹی آئی کے کنٹینر پر شاہد خٹک کے علاوہ کوئی نہیں تھا،، بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور دیگر راہنما نہیں تھے۔۔ پھر سہیل آفریدی نے رسائی کا مطالبہ کر دیا،، وفاق نے ملاقاتیں کروا دیں اور خوب اس کے ساتھ کھیلا۔ پی ٹی آئی کی پوری سینئر قیادت نے لانگ مارچ کی ذمہ داری نہیں لی اور سہیل آفریدی بند گلی میں پھنس گئے۔
