تحریک تحفظ آئین کا اعلامیہ دیکھیں! بہت سے لوگوں کا نام لے کر رہائی کا مطالبہ کیا گیا، اسد عمر

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سابق وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ تحریک تحفظ آئین کا اعلامیہ میں بہت سے لوگوں کا نام لے کر رہائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن عمران خان کیلئے صرف ملاقات اور صحت، جبکہ بشری بی بی کا نام تک نہیں۔ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین کے اعلامیہ دیکھئے۔
اچھی بات یہ ہے بہت سے لوگوں کا نام لے کر رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب غور سے پڑھیں کس کے لیے صرف ملاقات اور ڈاکٹروں کی رسائی مطالبہ ہے اور کس کا نام تک بھی نہیں۔ عمران خان صرف ملاقات اور صحت، بشری بی بی کا نام تک نہیں۔ یہ دوسری دفعہ ہوا ہے۔ یہ ہے اعلامیہ سے اقتباس:
شرکاء نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی، سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور تمام گرفتار اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی و رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تحریک تحفظ آئین عمران خان کی بہنوں کی رہائی، عمران خان سے ملاقات اور ان تک ان کے ڈاکٹروں کی رسائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ شرکاء نے ایمان مزاری ، ان کے شوہر ہادی چھٹہ ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام سیاسی قیدی رہا کئے جائیں۔
پچھلے دفعہ میں نے کہا تھا غلطی ہو گئی۔ اب لگتا ہے پالیسی ہے۔ ضرور اس میں بھی کوئی حکمت ہو گی۔
دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس باقر نجفی بھی شامل تھے، بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیئے، سلمان اکرم راجہ بھی ان کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتوں کا ہمیشہ سے خواتین کے لیے نرم گوشہ رہا ہے اور نیب کا رویہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران قابلِ اعتراض رہا ہے کیونکہ نیب کی جانب سے کئی سماعتوں پر التواء لیا گیا اور اب سزا کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت کا قانونی جواز بن چکا ہے، بشریٰ بی بی نے بطور خاتون ہونے کے ناطے سزا معطلی کی استدعا کی ہے کیونکہ اس کیس میں سارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر رہا ہے۔
