اگر کوئی اچانک بیہوش ہو جائے تو پہلے پانچ منٹ میں کیا کریں؟
پانچ منٹ کا وقت بہت کم ہے، لیکن درست اقدامات مریض کی جان بچا سکتے ہیں۔

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)گھر میں کسی شخص کا اچانک بے ہوش ہو کر گر جانا گھر والوں کے لیے ایک خوف ناک صورتحال ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں اکثر لوگ گھبرا جاتے ہیں اور سمجھ نہیں پاتے کہ فوری طور پر کیا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر متاثرہ شخص کا دل دھڑکنا بند کر دے یا سانس معمول کے مطابق نہ آ رہی ہو تو ابتدائی چند منٹ اس کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کارڈیک سرجن ڈاکٹر سنتوش گپتا نے ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق، ’اگر دل خون پمپ کرنا بند کر دے تو دماغ کو آکسیجن ملنا رک جاتی ہے اور چند ہی منٹوں میں اسے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے باوجود، مریض کے قریب موجود شخص، جو اکثر مدد کرنے والا واحد فرد ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔‘
ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ اگر کبھی ایسی صورتحال پیش آ جائے تو کسی شخص کے اچانک گرنے کے بعد پہلے پانچ منٹ میں ایسے کیا اقدامات کرنے چاہییں جس سے اس کے زندہ بچنے کے امکانات زیادہ سے زیادہ ہو سکیں۔ اس لیے صرف ایمبولینس کا انتظار کرنے کے بجائے قریبی افراد کو فوری طور پر چند بنیادی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
پہلا منٹ: مریض کا ری ایکشن اور سانس دیکھیں
اگر کوئی شخص اچانک زمین پر گر جائے تو سب سے پہلے اس کے پاس جائیں اور دیکھیں کہ وہ ہوش میں ہے یا نہیں۔ اس کے کندھے کو آہستہ سے تھپتھپائیں اور بلند آواز میں پوچھیں کہ کیا وہ آپ کی بات سن سکتا ہے۔
اگر وہ کوئی جواب نہ دے تو اس کی سانس چیک کریں۔ اگر سانس نہیں آ رہی، یا صرف ہانپنے جیسی غیر معمولی اور وقفے وقفے سے سانس آ رہی ہے، تو یہ دل کے اچانک کام کرنا بند کرنے یعنی کارڈیک اریسٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔
ایسی صورت میں فوری طور پر ہنگامی طبی مدد طلب کریں۔ مریض کو پانی پلانے، زبردستی اٹھانے یا اپنی گاڑی میں ہسپتال لے جانے کی کوشش نہ کریں۔ ان میں سے ہر کام وقت ضائع کرتا ہے، جبکہ دل کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔
اگر دل کی دھڑکن بند ہو چکی ہو تو فوری سی پی آر اور طبی امداد اس کی زندگی بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
دوسرا منٹ: فوراً ایمبولینس بلائیں
اگر گھر میں دوسرے افراد بھی موجود ہوں تو ایک شخص کو فوراً ایمبولینس بلانے کی ذمہ داری دیں۔ فون اسپیکر پر رکھیں تاکہ ہنگامی عملے کی ہدایات سنتے ہوئے مریض کی مدد بھی کی جا سکے۔
دوسرا شخص فوراً سی پی آر شروع کردے، کیونکہ یہ عمل دل اور دماغ کو آکسیجن کی سپلائی جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
تیسرے فرد کو چاہیے کہ وہ ایمبولینس کے عملے کی رہنمائی کے لیے عمارت کے داخلی دروازے پر موجود رہے۔
اگر آپ اکیلے ہیں تو فون پر ہنگامی مدد طلب کریں اور آپریٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔
تیسرے سے پانچویں منٹ تک: سانس معمول کے مطابق نہ ہو تو سی پی آر شروع کریں
اگر مریض بے ہوش ہے اور اس کی سانس معمول کے مطابق نہیں آ رہی تو اسے کارڈیک اریسٹ سمجھتے ہوئے فوری کارروائی کریں۔ مریض کو سخت اور ہموار سطح پر سیدھا لٹائیں۔ اسے بالکل پرسکون رکھیں اور گھبراہٹ سے بچائیں۔ سینے کے درمیان ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالنا شروع کریں۔
بالغ شخص کے سینے کو ہر منٹ 100 سے 120 مرتبہ دبائیں۔ دباؤ اتنا ہونا چاہیے کہ سینہ تقریباً 5 سے 6 سینٹی میٹر نیچے جائے اور ہر دباؤ کے بعد سینہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں آ سکے۔
اگر آپ سی پی آر کے تربیت یافتہ ہیں تو 30 مرتبہ سینہ دبانے کے بعد 2 مرتبہ سانس دینے کا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو منہ سے سانس دینے کا طریقہ معلوم نہیں تو صرف سینے کو مسلسل دبانا بھی مددگار ہے۔ سی پی آر کے دوران پسلیاں ٹوٹ بھی سکتی ہیں، لیکن اس وجہ سے کوشش روکنا درست نہیں۔
مریض کے ہوش میں آنے، معمول کے مطابق سانس لینے یا طبی عملے کے پہنچنے تک ہدایات کے مطابق کوشش جاری رکھیں۔ اگر آپ تھک جائیں اور کوئی دوسرا شخص موجود ہو تو اسے سینے پر دباؤ ڈالنے کی ذمہ داری دیں۔ کیونکہ تھکن کی وجہ سے دباؤ ڈالنے کا معیار جلد متاثر ہونے لگتا ہے۔
اگر خودکار برقی آلہ (اے ای ڈی) دستیاب ہو تو اسے منگوائیں اور اس کی آواز کے ذریعے دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں۔
بے ہوش شخص کو پانی یا دوا نہ دیں
اگر کوئی شخص بے ہوش ہو تو اسے پانی، کھانا یا کوئی دوا منہ کے ذریعے نہ دیں، کیونکہ یہ چیزیں سانس کی نالی میں جا سکتی ہیں۔ اسی طرح مریض کو جھنجھوڑنے، چہرے پر پانی چھڑکنے یا زبردستی کھڑا کرنے سے بھی گریز کریں۔
اگر مریض بے ہوش ہے لیکن معمول کے مطابق سانس لے رہا ہے تو ہنگامی طبی مدد طلب کریں۔ اگر کسی چوٹ یا ریڑھ کی ہڈی کے نقصان کا شبہ نہ ہو تو اسے کروٹ پر لٹایا جا سکتا ہے تاکہ قے یا رطوبت کی صورت میں سانس کی نالی بند ہونے کا خطرہ کم ہو۔ اگر چوٹ کا شبہ ہو تو غیر ضروری طور پر حرکت نہ دیں اور ہنگامی عملے کی ہدایات پر عمل کریں۔
ہوش میں ہو لیکن سینے میں درد ہو تو کیا کریں؟
ہر ہنگامی صورتحال میں مریض کا بے ہوش ہونا ضروری نہیں۔ اگر کسی شخص کو سینے میں درد یا دباؤ، ٹھنڈے پسینے، سانس لینے میں دشواری یا اچانک کمزوری کا سامنا ہو تو یہ دل کے دورے کی علامات ہو سکتی ہیں۔
ایسی صورت میں بھی فوری طور پر ایمبولینس بلائیں۔ مریض کو آرام دہ حالت میں بٹھائیں یا لٹائیں، جسم پر تنگ کپڑے ڈھیلے کریں اور اسے چلنے پھرنے، سیڑھیاں چڑھنے یا خود گاڑی چلانے سے روکیں۔ گاڑی تک پیدل جانا یا سیڑھیاں چڑھنا دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔
مریض کو اکیلا نہ چھوڑیں کیونکہ دل کا دورہ بغیر کسی پیشگی وارننگ کے کارڈیک اریسٹ میں تبدیل ہو سکتا ہے اور اپنی طرف سے کوئی نئی دوا دینے کے بجائے طبی عملے کی ہدایات پر عمل کریں۔
دل کا دورہ اور کارڈیک اریسٹ دو الگ حالتیں ہیں، لیکن دل کا دورہ بعض اوقات کارڈیک اریسٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
گھر میں پہلے سے تیاری بھی ضروری ہے
اگر گھر میں بزرگ افراد یا دل کے مریض موجود ہیں تو ہنگامی رابطہ نمبرز ایسی جگہ لکھ کر رکھیں جہاں سب کی نظر پڑ سکے۔ قریبی ایسے ہسپتال کا پتہ بھی معلوم ہونا چاہیے جہاں دل کے مریضوں کے علاج کی سہولت موجود ہو۔
گھر کے افراد کو سی پی آر کی بنیادی تربیت دینا بھی فائدہ مند ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں وہ گھبراہٹ کے بجائے درست قدم اٹھا سکیں۔
کارڈیک سرجن نے کہا کہ پانچ منٹ کا وقت بہت کم ہے، لیکن اگر گھر والوں کو معلوم ہو کہ ایسی صورتحال میں کیا کرنا ہے تو وہ مریض کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات فراہم کرنے کے لیے ہے اور پیشہ ورانہ طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ کسی بھی طبی مسئلے کے بارے میں سوالات ہوں تو ہمیشہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
