ایلون مسک نے اڑنے والی ٹیسلا کار متعارف کروا دی، حیران کن خصوصیات دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی
نئی ٹیسلا روڈسٹر صرف ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، گاڑی ہوا میں اڑنے اور قلابازیاں کھانے کے ساتھ بحفاظت زمین پر اتر سکتی ہے

کیلیفورنیا(قدرت روزنامہ) دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے اپنی نئی اڑنے والی اسپورٹس کار متعارف کروا کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ کمپنی نے ایک خصوصی لائیو تقریب کے دوران نئی نسل کی ٹیسلا روڈسٹر کی رونمائی کی، جس میں گاڑی نے نہ صرف فضا میں پرواز کی بلکہ حیرت انگیز انداز میں قلابازی کھانے کے بعد کامیابی سے زمین پر اترنے کا مظاہرہ بھی کیا۔
تقریب کے دوران پیش کیے گئے مظاہرے میں ٹیسلا روڈسٹر کو ایک بڑے خم دار ریمپ پر چڑھایا گیا، جہاں گاڑی الٹی ہونے کے بعد فضا میں بلند ہوئی اور اپنے خصوصی تھرسٹرز کی مدد سے ہوا میں قلابازی کھاتے ہوئے بحفاظت زمین پر اتر گئی۔
اس حیران کن مظاہرے کے بعد ایلون مسک نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تجربہ کامیاب رہا، جبکہ ٹیسلا کے نائب صدر برائے وہیکل انجینئرنگ لارس موراوے نے اعلان کیا کہ اڑنے والی گاڑیاں اب حقیقت بن چکی ہیں۔
ایلون مسک کے مطابق نئی ٹیسلا روڈسٹر کی تیاری میں ٹیسلا کے ساتھ خلائی ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی اسپیس ایکس کے انجینئرز نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ گاڑی میں انتہائی زیادہ دباؤ والی ہوا کا جدید نظام نصب کیا گیا ہے، جس کی مدد سے یہ زمین سے بلند ہونے اور فضا میں اپنی سمت اور بلندی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں خصوصی راکٹ تھرسٹرز نصب کیے گئے ہیں، جو اسے روایتی گاڑیوں سے بالکل مختلف بناتے ہیں۔
ان کی مدد سے روڈسٹر نہ صرف فضا میں بلند ہو سکتی ہے بلکہ ہوا میں مختلف کرتب بھی دکھا سکتی ہے۔
Turns out the future does have flying cars https://t.co/6fexPp6SXI
— Elon Musk (@elonmusk) October 16, 2026
صرف 0.81 سیکنڈ میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار
ٹیسلا نے نئی روڈسٹر کی رفتار کا بھی حیران کن مظاہرہ پیش کیا۔ کمپنی کے مطابق گاڑی صرف 0.81 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نئی روڈسٹر کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 370 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ ایک مرتبہ چارج ہونے پر یہ تقریباً 480 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ نئی روڈسٹر بنیادی طور پر دو نشستوں والی اسپورٹس کار ہے، تاہم خصوصی راکٹ تھرسٹرز سے لیس بعض ماڈلز میں صرف ایک شخص کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی
گاڑی کے تین مختلف ماڈلز متعارف
ٹیسلا نے اپنی نئی روڈسٹر کے تین مختلف ورژن پیش کیے ہیں، جن میں پرفارمنس، تھرسٹ اور راکٹ شامل ہیں۔
پرفارمنس ماڈل کی بکنگ کے لیے ابتدائی طور پر 5 ہزار ڈالر جمع کروانا ہوں گے، جبکہ مزید 45 ہزار ڈالر اگلے 10 روز میں ادا کرنا ہوں گے۔ تھرسٹ ورژن کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر کی پیشگی رقم مقرر کی گئی ہے، جبکہ جدید ترین راکٹ ورژن صرف خصوصی دعوت نامے کے ذریعے دستیاب ہوگا۔ تاہم کمپنی نے ابھی تک گاڑی کی عام صارفین کو فراہمی کے حتمی شیڈول کی مکمل تفصیلات واضح نہیں کیں۔
سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں اور میمز کی بھرمار
ٹیسلا کی اڑنے والی گاڑی کی ویڈیوز سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں اور مزاحیہ میمز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر مستقبل میں گاڑیاں سڑکوں کے اوپر اڑنے لگیں تو ٹریفک پولیس ان کے چالان کیسے کرے گی، جبکہ کچھ صارفین نے مصروف سڑکوں پر ٹریفک جام سے بچنے کے لیے اڑنے والی گاڑی کو بہترین حل قرار دیا۔
ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں اڑنے والی گاڑیوں کے لیے نئے ٹریفک سائن کی تصویر شیئر کی، جبکہ دیگر صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایسی گاڑیوں کی انشورنس کس طرح کی جائے گی۔ کئی صارفین نے نئی ٹیسلا روڈسٹر کا موازنہ مشہور ہالی ووڈ فلم ‘بیک ٹو دی فیوچر’ میں دکھائی جانے والی اڑنے والی گاڑیوں سے بھی کیا۔
کیا اڑنے والی ٹیسلا کو عام سڑکوں پر چلانے کی اجازت ہوگی؟
نئی روڈسٹر کی رونمائی کے بعد اس کی قانونی حیثیت اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔
تقریب میں جب ایلون مسک سے پوچھا گیا کہ کیا یہ گاڑی عام سڑکوں پر چلانے کے لیے قانونی طور پر منظور شدہ ہوگی تو انہوں نے دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس سڑک کی بات کر رہے ہیں۔ ایلون مسک نے یہ بھی واضح کیا کہ روڈسٹر ٹیسلا کی ایک ایسی گاڑی ہوگی جسے بنیادی طور پر خود چلانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس کی تیاری میں غیر معمولی کارکردگی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ٹیسلا نے نئی نسل کی روڈسٹر کا ابتدائی تصور نومبر 2017ء میں پیش کیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس کی تیاری اور رونمائی میں کئی سال کی تاخیر ہوئی۔ تقریباً 9 سال کے انتظار کے بعد نئی روڈسٹر کی رونمائی کو ٹیسلا کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے سامنے اب بھی یہ سوال موجود ہے کہ آیا یہ جدید گاڑی مستقبل میں عام سڑکوں پر استعمال کے لیے قانونی منظوری حاصل کر سکے گی اور اس کی فضائی صلاحیتوں کو روزمرہ سفر میں کس حد تک استعمال کیا جا سکے گا۔
