طاقت کا اصل سرچشمہ منتخب پارلیمان، ملکی، داخلی اور خارجی فیصلوں کا اختیار ایوان کے پاس ہونا چاہیے، محمود خان اچکزئی
صوبوں کے وسائل اور ساحلوں پر عوام کا مکمل حق تسلیم کیا جائے، سینیٹ کو بھی قومی اسمبلی کے مساوی اختیارات دیے جائیں

پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے، تمام مسائل کا دیرپا حل آئین کی بالادستی، باہمی مکالمے اور سیاسی مفاہمت میں مضمر ہے
اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی نے قومی اسمبل اجلاس میں اظہار خیال جسے قومی اسمبلی نے سینسر کردیا تھا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات کس بات کے؟ آپ ہمیں غیر مشروط حمایت دیں، آئیں ہم حلف اٹھاتے ہیں۔ مذاکرات اس بات پر ہوں گے کہ طاقت کا سرچشمہ یہ منتخب پارلیمان ہوگی۔ ملکی، داخلی اور خارجی معاملات کے فیصلے یہیں سے ہوں گے۔ صوبوں کے وسائل پر صوبوں کے عوام کا اختیار ہوگا، اور مکمل صوبائی خود مختاری ہوگی۔ ”تمام مسائل کا حل اسی ایوان سے نکلے گا۔ صوبوں کے وسائل پر ان کے عوام کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ صوبائی خود مختاری کا احترام کیا جائے گا۔ سینیٹ کو بھی وہی اختیارات دیے جائیں جو قومی اسمبلی کو حاصل ہیں۔ ہم آپ کو غیر مشروط حمایت فراہم کریں گے۔ آئیں، پارلیمان کو طاقت کا اصل سرچشمہ بنائیں۔ یہ کیا نظام ہے؟ کیا یہ مارشل لاء ہے؟ یہ تو مارشل لاء سے بھی بدتر ہے۔ معافی چاہتا ہوں، لیکن ایک ایسا شخص جو عوام کا منتخب نمائندہ تک نہیں، اس کی مرضی کے خلاف یہاں کوئی ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا۔ ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتے۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، سب اس کی مرضی سے ہو رہا ہے۔”
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔ یہاں نہ کوئی فاتح ہے، نہ کوئی مفتوح۔ آئین بڑی مشکل سے بنا، پاکستان ٹوٹنے کے بعد اور پاکستان ٹوٹا بھی ہماری زیادتیوں کی وجہ سے۔ مجیب الرحمان ایک مڈل کلاس کارکن تھا۔ وہ سائیکل پر بیٹھ کر پارٹی کے لیے کام کرتا تھا۔ لیکن یہاں کے جو مقتدر حلقے تھے، وہ یہاں تو ایک بیمار آدمی کو گورنر جنرل کی حیثیت سے بٹھائے رکھتے تھے جس کی زبان کوئی سمجھتا نہیں تھا۔ وہ گالیاں دیتا تھا اور اس کی ترجمانی اس کی انگریز سیکرٹری کیا کرتی تھی کہ ‘جناب صاحب یہ فرما رہے ہیں ‘۔ اس قسم کی باتوں کو آپ نے برداشت کیا کیونکہ وہ کسی خاص طاقتور شعبے سے تھا۔ سکندر مرزا کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اس آدمی کا نواسہ ہے جس نے سراج الدولہ کو میدان میں دھوکہ دیا تھا اور پہلی دفعہ لارڈ کلائیو نے مسلمان فوجوں کو شکست دی تھی۔ وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ ایک بیمار آدمی! ان دنوں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا، مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ایک متحدہ محاذ بنایا، جبکہ اس نے مغربی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ختم کر دیا۔ یہ صورتحال اس سے برداشت نہیں ہوئی؛ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ‘میری بلی اور مجھ ہی کو میاؤں ‘۔ خرابیاں وہیں سے شروع ہوئیں۔ حامد صاحب کی کتاب کے مطابق، بالآخر چھ جرنیلوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مشرقی پاکستان کو الگ کر دینا چاہیے۔ جناب اسپیکر! یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا آپ ہمیں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ماریں گے؟” آپ کے اراکین کو خفیہ اداروں نے بالکل اس طرح پکڑا جیسے بلی چوہے کو پکڑتی ہے، اور آپ نے کچھ نہیں کیا۔ اسپیکر ایوان کا محافظ (Custodian) ہوتا ہے۔ جس دن آپ اس ایوان کے حقیقی محافظ بنیں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جو آپ کو سلیوٹ کرے گا۔ ہم سب میں سے آپ اس کرسی پر براجمان ہیں، لیکن آپ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”پارلیمنٹ کی کیا حالت کر دی گئی ہے؟یہ کیسی پارلیمنٹ بن گئی ہے؟سب فرما رہے ہیں کہ یہ مارشل لاء ہے۔یہ تو مارشل لاء سے بھی بدتر ہے۔میں معافی چاہتا ہوں، ایک آدمی جو منتخب بھی نہیں ہے،اس کی مرضی کے خلاف یہ سب ایک لفظ نہیں کہہ سکتے۔ایک لفظ نہیں کہہ سکتے۔اس کی مرضی کے خلاف، وہ جو کچھ کہے گا، آپ کو ماننا پڑے گا۔اور اگر اجازت لینی پڑے گی تو آپ نہیں لے سکتے، وہ جائے گا اور کہیں اور سے پوچھے گا۔آپ نے پارلیمنٹ کی یہ حالت کر دی ہے۔تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اور کسی بھی ایسے پاکستانی کو جو جمہوریت پر یقین رکھتا ہے، ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہم انہیں روکیں گے، ہم ضرور روکیں گے۔ ہم ان تمام جمہوری پارٹیوں کا محاذ بنائیں گے جو آئین پر یقین رکھتی ہیں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ لوگ احتجاج کر رہے تھے کہ ہمارے اسپیکر کو ہٹایا گیا اور حکومت کو توڑا گیا۔ ان پر سیدھی گولیاں چلائی گئی ہیں؛ کسی کو یہاں گولی لگی ہے، کسی کو وہاں گولی لگی ہے۔ کیا ہم نے اپنے بچے اس لیے پیدا کیے ہیں کہ آپ انہیں اپنے حق کے لیے رونے تک کی اجازت نہ دیں؟ کیا آپ انہیں احتجاج بھی نہیں کرنے دیں گے؟ اس دن سے ڈریں! خدا کو مانیں، میں آپ کے سامنے جھولی پھیلاتا ہوں۔ اس دن سے ڈریں جب خدانخواستہ عوام نے اس ظلم کا ردعمل دکھا دیا، تو آپ کو چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔ خدارا! اس ملک پر رحم کریں۔”
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”چاروں اسمبلیاں انہی الزامات کے تحت توڑی گئیں۔ 58 (2) (بی) کے تحت چار اسمبلیاں غلام اسحاق خان، فضل الہٰی، اور ایک دفعہ فاروق لغاری نے توڑیں۔ یہی الزامات لگے تھے کہ آپ چور ہیں، آپ ڈاکو ہیں، آپ کرپٹ ہیں، آپ فلاں ہیں، آپ فلاں ہیں۔ ہماری اسمبلیاں توڑی گئیں، اگر آپ کی تقاریر نکالی جائیں تو آپ سب نے اس عمل کی مذمت کی تھی۔ اس عمل کو سب نے کنڈم کیا ہے۔ اب کہہ رہے ہیں کہ یہ دہشت گردی ہے۔ ”وزیر اعظم صاحب! آپ لوگوں نے اسے اغوا کیا ہے۔ اس کے ساتھ آپ نے ایم پی ایز کو اغوا کیا ہے، اس کے ساتھ آپ نے ایم این ایز کو اغوا کیا ہے۔ آپ اغوا کار ہیں، آپ دہشت گرد ہیں! آپ نے ایک منتخب پارلیمنٹ، جو کہ کروڑوں انسانوں کی نمائندہ ہے، اس پر حملہ کیا ہے۔ 8 فروری کو جو الیکشن ہوئے، آپ خدا کو حاضر ناظر جان کر، دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں، کیا یہ الیکشن حقیقت تھے؟”8 فروری کو جو الیکشن ہوئے، آپ خدا پر، اللہ پر، رسول پر، قرآن پر یقین رکھتے ہیں۔ قسم کھائیں، یہ الیکشن اپ جیتے ہیں۔ آپ کی بہو بیٹی، آپ کی بہو بیٹی کی قسم، آپ کی گھر والی کی قسم، آپ کا بیٹا قسم کھائے کہ یہ الیکشن اپ نے جیتا ہے؟ 24 کروڑ انسانوں کو آپ نے دہشت زدہ کر دیا ہے۔ دہشت، دہشت کیا ہوتی ہے؟ دہشت کیا ہوتی ہے؟ آپ غلط طریقے سے آئے ہیں، اور پھر دوسرے کے گھوڑوں پر سوار ہو کر، روندنا چاہتے ہیں دنیا کی اس سیاست کو؟ ہم نے بڑی مشکل سے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ کہتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”ہم پر قاتلانہ حملے کس نے کیے؟ اسفندیار ولی خان کے گھر میں گھس کر قاتلانہ حملہ کس نے کیا؟ کیا اس وقت سہیل وزیر اعلیٰ تھا؟ مولانا فضل الرحمٰن پر تین بار حملے ہوئے، تین حملے! کیا کوئی پوچھنے والا ہے؟ میری گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی، کیا آپ نے اس کی تحقیقات کیں؟ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور ان کے بھتیجے پر دو حملے ہوئے؛ ایک حملے میں 42 افراد شہید ہوئے اور دوسرے میں 34 افراد شہید ہوئے۔ کیا آپ نے ان کی تحقیقات کیں؟ کیا یہ سہیل آفریدی تھا؟ یہ تمام واضح علامات ہیں، یہ کسی شریف آدمی کا کام نہیں تھا۔ آپ کس دہشت گردی کی بات کرتے ہیں؟ اس دہشت گردی کو جنم دینے والے (ماں) آپ خود ہیں۔ ہم پاکستانیوں نے۔۔۔ جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں، تو ہم سے پوچھے بغیر، پارلیمنٹ سے اجازت لیے بغیر، آپ نے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا۔”
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی، شیرپاؤ یا کوئی بھی پشتون سیاست دان… خیبر پختونخوا کا کوئی بھی سیاست دان فاٹا میں نہیں جا سکتا تھا۔ وہاں نہیں جا سکتا تھا، وہاں پرمٹ لے کر جانا پڑتا تھا۔ وہاں 6 ہزار دہشت گرد آپ نے پہنچائے۔ 6 ہزار دہشت گرد! مولانا فضل الرحمان وہاں نہیں جا سکتے تھے، اسفند یار نہیں جا سکتے تھے، شیرپاؤ نہیں جا سکتے تھے۔ آپ نے وہاں 6 ہزار دہشت گرد بانٹے۔ آپ کی پارلیمنٹ کے ممبر مولانا نور محمد اپنے دفتر میں 12 آدمیوں سمیت شہید ہوئے۔ مولانا معراج الدین ہمارے ممبر تھے، وہ شہید ہوئے، یہ کس نے کیا؟ جناب اسپیکر! 1200 سماجی شخصیات کو خیبر پختونخوا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ اس وقت سہیل آفریدی اسکول کا بچہ تھا۔ جناب اسپیکر! دہشت گردی آپ لائے ہیں۔ آپ دہشت گردی لائے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد کہاں گرفتار ہوا؟ ہم جب کہتے کچھ ہیں، اور کرتے کچھ ہیں، تو اس کے نتیجے میں ہم بدنام ہوتے ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا خطرناک دہشتگرد، دنیا کہتی ہے کہ آپ کے پاس ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں توبہ، ہم تو مسلمان لوگ ہیں، ہم دہشتگردی کے مخالف ہیں۔ پھر کیا ہوا دو ہیلی کاپٹر۔۔ دو ہیلی کاپٹر آئے۔ وزیرِ قانون صاحب! آپ سے عرض کر رہا ہوں۔ دو ہیلی کاپٹر آئے۔ ہماری ان باتوں کی وجہ سے کہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ دو ہیلی کاپٹر آئے، انہوں نے ہماری خود مختاری کی، سوورینٹی کی دھجیاں اڑائیں۔ ایک خراب ہوا، ہم سب چوبیس کروڑ پاکستانی، افواجِ پاکستان سمیت گھر میں بیٹھے رہے۔ پھر بھی ہم نے توبہ نہ کی، پھر بھی ہم نے توبہ نہ کی۔ یہ آگ جو پاکستان نے وزیرستان کے پہاڑوں تک پہنچا دی ہے، بلوچستان کے پہاڑوں تک پہنچا دی ہے، کہاں سے اُڑ کے آتی ہے یہ آگ؟ اصل میں آپ انگریزوں کی کتابیں پڑھ کر آپ کا دماغ خراب ہوا ہے۔ انگریز، انگریز یہی کہتا تھا کہ افغانستان میں میری مرضی کی حکمرانی ہو۔ آپ جب تک طالب… جب تک طالب آپ کی یہ بات مانتا تھا، طالب آپ کی کریشن ہے۔ طالب آپ کی کریشن ہے۔ آپ نے فرنٹ لائن سٹیٹ بن کر تمام افغانستان کے لوگوں کو اپنی چھاؤنیوں کے سارے راستے بتائے، ان کو یہاں ٹریننگ دی، ان کو یہاں مسلح کیا اور دنیا پہ چھوڑ دیا گیا۔ پھر جب سوویت یونین وہاں سے گیا، آپ نے ان سے، ان کے حکمرانوں کو… جس طرح ہم آج، کچھ تو خدا سے خوف کریں۔”کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ کیا پلوں کو اڑانا، مدرسوں کو اڑانا اور تعمیرات کو تباہ کرنا ہم نے سکھایا تھا؟ کیا یہ سب ہم نے سکھایا؟ اور پھر جب جنگ ختم ہوئی تو ہمیں ان ممالک کو آگاہ کر دینا چاہیے تھا کہ فلاں شخص چلتا پھرتا خطرہ ہے، اسے سنبھالیں۔ یہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ آپ نے انہیں نہیں روکا، ہمارے یہ دہشت گرد جہاں جہاں گئے، انہوں نے وہی تماشا شروع کر دیا۔ الجزائر میں جس شخص کو پکڑا جاتا، وہ بتاتا کہ میں نے ‘چراٹ’ میں ٹریننگ لی ہے۔ سعودی عرب میں جسے پکڑا جاتا، وہ کہتا کہ میں نے ‘پشین’ یا ‘ژوب’ میں ٹریننگ لی ہے۔ سکندر اعظم کی تاریخ لکھنے والا تھا، ٹائن بی تھا، میں چیلنج کرتا ہوں، اگر کسی بھی تاریخ دان نے یہ لکھا ہو کہ پشتون بحیثیت قوم یا تو فرقہ پرست ہے یا دہشت گرد ہے، تو میں اپنی نشست (سیٹ) بھی چھوڑ دوں گا، آپ سے معافی بھی مانگوں گا اور گھر چلا جاؤں گا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ بے شمار لوگوں نے لکھی ہے۔ ہندو جاسوس گئے ہیں، انگریز جاسوس گئے ہیں، فرانسیسی جاسوس گئے ہیں اور دیگر جاسوس بھی گئے ہیں، ان سب کی رائے یہی ہے کہ یہ ملنسار لوگ ہیں۔ یہاں قیام و طعام مفت ہے، روٹی اور بستر مفت ملتا ہے۔ البتہ پشتون، افغان، یا جو بھی لوگ ہیں. آپ نے پاکستان کے تمام صوبوں پر قبضہ کیا، لیکن ایک صوبہ آپ کی مرضی کے مطابق نہیں تھا۔” ”جو ہماری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہوئی، وہی بدکاری یہ اب کر رہے ہیں۔ گورنر راج کے حوالے سے، یہ میرا اپنا صوبہ ہے۔ آپ نے جو الزامات لگائے ہیں، وہ تو ہمارے صوبے کی صورتحال کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ آدھے صوبے میں حکومت کی عملداری (Writ of the government) ختم ہو چکی ہے۔ لیکن چونکہ میرا دوست اور وزیر اعلیٰ آپ کا دست و بازو ہے، وزراء آپ کے ساتھ ہیں، اور ان کے تمام معاملات میں آپ سب شریک ہیں، لہذا اس طرف آپ کی نظر نہیں جاتی؛ ٹھیک ہے، بسم اللہ کریں۔ میں نے خدا کی قسم کسی سے بات نہیں کی، لیکن ان کی طرف سے بھی، سندھی بھائیوں کی طرف سے بھی، بلوچ بھائیوں کی طرف سے بھی اور پشتون بھائیوں کی طرف سے بھی یہ واضح پیغام ہے۔ ہمارے وسائل پر قبضے کا جو منصوبہ آپ لوگوں نے بنایا ہے، معدنیات پر، پانیوں پر، جنگلوں اور درختوں پر؛ ہم اس کی بھرپور مزاحمت کریں گے (We will resist it)۔ ہم مکمل طور پر سیاسی راستہ اپنائیں گے۔ ہمارے ساتھ علمائے کرام اور تمام سیاسی پارٹیاں شامل ہوں گی۔ جو کچھ اللہ نے ہمیں دیا ہے، اس معاملے میں ہمیں مت چھیڑیں۔ ہم آپ سے خیرات یا زکوٰۃ نہیں مانگتے؛ پاکستان کو مل کر بنائیں۔ پاکستان کو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ آج اور ابھی ایک قرارداد منظور کریں، اگر اس سے پاکستان کی دہشت گردی پچاس فیصد کم نہ ہوئی تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ ایک قرارداد پیش کریں کہ سندھ والو، سندھی ساحلوں اور وسائل پر آپ کا مکمل اختیار ہے۔ بلوچ بھائیو، بلوچ ساحلوں اور وسائل پر آپ کا مکمل اختیار ہے۔ پنجابی بھائیو، آپ کی حکومت کا جو تماشہ ہے، اس کا ہم علاج کریں گے اور آپ کے کسانوں کے مسائل حل کریں گے۔”
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ”امریکہ، روس اور چین سمیت دنیا میں کہیں بھی بدترین قاتلوں پر بھی ایسی پابندی عائد نہیں ہے۔ دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد اور سیریل کلرز پر کوئی پابندی نہیں، تو عمران خان پر پابندی کیوں؟ آخر کیوں؟ کیا ہوا ہے؟ یہ ایک جرم ہے۔ ایک قیدی کو آپ مجبور کر رہے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ معاہدہ کرے۔ آپ جن لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور جو لوگ آپ کو استعمال کر رہے ہیں، انہوں نے ہی آپ کے قائد کو اٹک قلعے میں مجبور کیا، انہیں جہاز میں بٹھایا، ہتھکڑیاں لگائیں اور زبردستی سعودی عرب جلاوطن کیا۔ ایک شخص کو سعودی عرب جانا تھا، لیکن شہباز شریف سمیت 76 یا 78 افراد کا پورا لشکر سعودی عرب بھگا دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا؟ اور بالآخر انہیں قتل کر دیا گیا۔ خدا کے لیے اس ملک پر رحم کریں۔ اگر واقعی حالات ایسے ہوتے تو ہم آپ کی حمایت کرتے، لیکن دیگر صوبوں میں تو حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ خدارا سوچیں، ہمیں نیند کیسے آ سکتی ہے؟ جس ملک میں روزانہ 80 سے زائد، مہینے میں 2400 اور سالانہ 28 ہزار لوگ گولیوں کا نشانہ بن کر مر جائیں، اور پھر بھی اسے ‘اسلام کا قلعہ’ کہا جائے؟ یہ کیسا اسلام ہے جس میں رشوت لینا، مخالفین کو مارنا اور اپنے ہی ملک کو لوٹنا جائز ہے؟ ہاں، یہ اسلام کا قلعہ صرف اس حد تک ہے کہ یہاں اسلام کو اسی قلعے میں نظربند کر دیا گیا ہے، اب یہ محض ایک نام رہ گیا ہے۔ اگر آپ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلام کا قلعہ اور ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں، تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔” ”فرقہ کی فرقے کے خلاف، ملت کی ملت کے خلاف، قوم کی قوم کے خلاف اور ریاست کی اپنے ہی لوگوں کے خلاف دہشت گردی؛ میں اس کی بھی مخالفت کرتا ہوں۔ جب ریاست بندوق اٹھاتی ہے تو لوگوں کے لیے کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ ابھی معلومات ملی ہیں کہ صوابی، چارسدہ اور مردان میں آپ لوگوں کے گھروں میں گھسے ہیں، آپ کیا چاہتے ہیں؟ آج میں آپ سے مخاطب ہو کر بات کر رہا ہوں جناب سپیکر! میں نے اپنے گھر والوں کو نہیں بتایا، میں نے ان ساتھیوں کو نہیں بتایا۔ 26 تاریخ کو، سینیٹ کا سیشن بھی پاس ہے، میرے ساتھ ایک بچہ رہتا ہے جس کا نام ریاض ہے، میں نے اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا۔ ہم نے ایف آئی آر درج نہیں کی اور ہم کریں گے بھی نہیں۔ کراچی کی ایک کمپنی ہے، پولیس کی ٹیم اور نامعلوم افراد نے اسے پکڑا۔ ان کے ساتھ دو عورتیں تھیں۔ اسے آپ ایف آئی آر سمجھیں یا جو بھی، ان کے ساتھ دو عورتیں تھیں، ان سے گاڑی چھینی اور انہیں ایک پیغام دیا گیا کہ اس کے کپڑے اتارو۔ اس کے کپڑے اتارو اور اس لڑکی کے ساتھ اس کی ویڈیو بناؤ۔ آپ کو یہ کپڑے اتارنے کا کیا شوق ہوا ہے؟ آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا دیکھنا چاہتے ہیں آپ؟ کہا گیا کہ اس کے کپڑے اتارو، اس کی ویڈیو بناؤ اور وہ ویڈیو اس کی بیوی کو بھیجو۔ دیکھیں، میں نے ایف آئی آر بھی درج نہیں کرائی، مجھ سے میرے گھر والے ناراض ہوں گے۔ اس نے بھی اپنے گھر والوں کو نہیں بتایا۔ میں نے ایف آئی آر نہیں کرانی۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟ بالکل، اٹھا لیں اسے، اٹھا لیں۔ آج وہ میرے ساتھ بیٹھا تھا، میں نے کہا کہ ریاض لیٹ ہو گیا ہے، اسے کیا ہوا ہے؟ وہ غریب آیا، گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک گھنٹے تک مجھے بٹھائے رکھا، گاڑی وہاں کھڑی کی، اور یہ بھی کہا کہ اگر ہم آپ کو لے جائیں تو کتنا پیسہ ملے گا؟ اس نے کہا کہ ایک ٹکہ نہیں ملے گا، میں غریب آدمی ہوں، محمود کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ کیا اس طریقے سے آپ ہمیں اور پاکستان کو چلائیں گے؟ اس طریقے سے؟ اب وہ کپڑے، کیا کپڑے؟ یہاں بہنیں بیٹھی ہوئی ہیں ورنہ میں بات کھول دیتا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی سے خطاب جو قومی اسمبلی نے سینسر کر دیاگیا تھا۔#
