پولیس نے سابق وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کی گرفتاری ظاہر کردی

پشاور اسپیکر ہاوس سے گرفتار سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید اسلام آباد کو عدالت میں پیش کردیا گیا، جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، اے ٹی سی کا جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے طویل عرصے سے روپوشی میں رہنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی باضابطہ گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کر دیا، جہاں سے عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں باضابطہ گرفتاری ڈالی گئی ہے، پشاور میں واقع اسپیکر خیبر پختونخواہ ہاؤس سے مبینہ طور پر اسپیکر کے ساتھ ہی تحویل میں لیے جانے والے خالد خورشید کو فوری طور پر اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سکیورٹی کے سخت انتظامات میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔


بتایا گیا ہے کہ سماعت کے دوران پولیس و تفتیشی حکام نے ملزم سے مزید تفتیش کی غرض سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فاضل جج نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کر دیا، عدالت نے تفتیشی ٹیم کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کو جوڈیشل کسٹڈی پر فوری طور پر جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کردیا۔
واضح رہے کہ خالد خورشید 26 نومبر کے سیاسی احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے متعلق درج انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات میں طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے اور روپوش چلے آ رہے تھے، اسپیکر ہاؤس پشاور سے گرفتاری کو ظاہر کیے جانے کے بعد عدالتی کارروائی کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے جہاں سے ان کی قانونی چارہ جوئی جاری رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert