برین ڈرین میں ہوشربا اضافہ، حامد میر کی ملک کی موجودہ صورتحال پر تنقید
تین سال میں 18 لاکھ پڑھے لکھے افراد پاکستان چھوڑ کر چلے گئے، جنہوں نے ابھی نہیں چھوڑا ان کیلئے بھی ایسے حالات پید کیے جا رہے ہیں کہ وہ بھی یہ ملک چھوڑ جائیں؛ سینئر صحافی وتجزیہ کار کا تبصرہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے ملک سے بڑھتے ہوئے برین ڈرین پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ موجودہ حالات کے باعث ملک کا تعلیمی و صلاحیت کار کا طبقہ شدید مایوسی کا شکار ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک خبر شیئر کی جس سے معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے تحت گزشتہ 3 سالوں کے دوران 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور پاکستانی بہتر روزگار، محفوظ مستقبل اور معاشی استحکام کی تلاش میں ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیارِ غیر ہجرت کرنے والوں میں ڈاکٹرز، نرسز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، مینیجرز، اساتذہ اور دیگر شعبوں کے ماہرین بڑی تعداد میں شامل ہیں، ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2024 میں سب سے زیادہ افراد بیرونِ ملک گئے، جن کی تعداد 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد رہی، سال 2025 میں 7 لاکھ 26 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں نے بیرونِ ملک روزگار حاصل کیا، سال 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔
تین سال میں 18 لاکھ پڑھے لکھے افراد پاکستان چھوڑ کر چلے گئے جنہوں نے ابھی نہیں چھوڑا انکے لئے بھی ایسے حالات پید کئے جا رہے ہیں وہ بھی یہ ملک چھوڑ جائیں https://t.co/GgTUtxaFiS
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) October 17, 2026
اس اہم خبر اور سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے تبصرے میں گہری تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ اس خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین سال کے اندر 18 لاکھ پڑھے لکھے افراد کا پاکستان چھوڑ جانا ایک المیہ ہے، جبکہ جن لوگوں نے ابھی تک ملک نہیں چھوڑا ان کے لیے بھی یہاں ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کہ وہ بھی بالآخر یہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
