ایف آئی اے کراچی کی دو بڑی کارروائیوں میں جعلی ویزہ فراڈ بے نقاب

کراچی (قدرت روزنامہ) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے انسانی اسمگلنگ اور امیگریشن فراڈ کے خلاف دو کامیاب کارروائیاں انجام دی ہیں، ان کارروائیوں کے دوران کینیڈا اور بحرین کے نام نہاد جعلی ویزہ فراڈ کا پردہ فاش کیا گیا، متاثرہ شہریوں کو فوری قانونی ریلیف فراہم کرتے ہوئے مجموعی طور پر 19 لاکھ روپے کی کثیر رقم بھی کامیابی کے ساتھ واپس دلادی گئی۔
ایف آئی اے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق پہلی کارروائی کینیڈا کے امیگریشن فراڈ کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی، اس واقعے میں ایک فراڈ اور نوسرباز امیگریشن کنسلٹنٹ نے کینیڈا کی امیگریشن اور ورک ویزہ دلانے میں معاونت کا جھانسا دے کر معصوم شہری اجمل خان سے 11 لاکھ روپے کی رقم بٹور لی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ جب اس فراڈ کا انکشاف ہوا تو متاثرہ شہری نے فوری طور پر ایف آئی اے سے رجوع کیا، اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کی مستعد تفتیشی ٹیم نے فوری طور پر انکوائری کا آغاز کیا اور پیشہ ورانہ مہارت بروئے کار لاتے ہوئے ملزم پر دباؤ ڈالا۔
جس کے نتیجے میں مذکورہ پوری رقم کامیابی سے برآمد کر کے متاثرہ شہری اجمل خان کے حوالے کردی گئی، اس بروقت کارروائی سے متاثرہ شہری کو نہ صرف بڑا مالی ریلیف ملا بلکہ یہ اقدام شکایت کنندگان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ایف آئی اے کے پختہ عزم کا واضح منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے کراچی نے اپنی دوسری بڑی کارروائی میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک اور مکروہ نیٹ ورک کو پکڑ لیا، اس کارروائی کے دوران انسانی اسمگلنگ کے مقدمے میں ملوث مرکزی ملزم یاسین خان کو گرفتار کرلیا گیا، گرفتار ملزم کے خلاف قانون کی سخت دفعات کے تحت پریونشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2018ء کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ابتدائی تفتیش اور ریکارڈ سے یہ اہم حقائق سامنے آئے ہیں کہ ملزم نے ایک سادہ لوح شہری کو خلیجی ملک بحرین کا پرکشش ورک ویزہ دلانے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا اور اس مکروہ مقصد کے لیے کل 8 لاکھ روپے طے کیے گئے تھے، ملزم نے ویزے کی فراہمی کے نام پر پیشگی طور پر 5 لاکھ 20 ہزار روپے وصول بھی کر لیے تھے۔
تاہم جب ویزے اور سفری کاغذات سے متعلق سنگین قانونی شبہات پیدا ہوئے تو بروقت کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ شہری کو مزید سفر کرنے سے روک دیا گیا، اور پھر اس معاملے کو مکمل قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حکام کے حوالے کر دیا گیا، ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے اس گھناؤنے نیٹ ورک میں ملوث دیگر عناصر کی تلاش اور کیس کے تمام پہلوؤں پر مزید گہرائی سے تفتیش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
