بلوچستان ہائیکورٹ کا معذور افراد ایکٹ 2007 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم، متعلقہ محکموں سے جامع رپورٹ طلب
کمک فنڈ کے تحت 34 ہزار معذور افراد کی رجسٹریشن مکمل، فلاح و بہبود کے لیے 3 ارب روپے کا سرمایہ مختص
ملازمتوں کے کوٹے، عمر کی حد میں رعایت اور نجی ہسپتالوں میں 50 فیصد رعایت پر عملدرآمد کی تفصیلات طلب
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبے میں معذور افراد کے حقوق، قانونی مراعات اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کردہ کمک فنڈ پر عملدرآمد سے متعلق اہم آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ‘معذور افراد ایکٹ 2007’ پر روح کے مطابق اور بلا تاخیر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔یہ حکم چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ سماعت کے دوران عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق کمک فنڈ کے تحت بلوچستان میں اب تک تقریبا 34 ہزار معذور افراد کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمک فنڈ کا ابتدائی سرمایہ 3 ارب روپے ہے جس سے متوقع ماہانہ آمدن 2 کروڑ 70 لاکھ روپے حاصل ہوتی ہے، جبکہ فنڈ کے تحت معذور افراد کی ماہانہ مالی معاونت کے لیے بالترتیب 6 ہزار اور 8 ہزار روپے کی رقم مقرر کی گئی ہے۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے کمک فنڈ کی موجودہ تقسیم اور معذور افراد کے لیے مختص رقوم کو شدید ناکافی قرار دیتے ہوئے سخت اعتراضات اٹھائے۔ وکلا نے موقف اختیار کیا کہ فنڈز کی رقم انتہائی کم ہے، جبکہ کمک فنڈ میں تعلیمی معاونت کے لیے صرف 7 فیصد رقم مختص کرنا معذور طلبہ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔عدالت عالیہ نے معذور افراد کے لیے ملازمتوں میں کوٹے، مقررہ عمر کی حد میں رعایت اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ مزید برآں معذور افراد کو نجی ہسپتالوں میں 50 فیصد رعایت اور دیگر قانونی مراعات کی فراہمی پر بھی عملدرآمد کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔بلوچستان ہائیکورٹ نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق پیش کردہ رپورٹ پر نظرثانی اور تفصیلی جائزہ لینے کے لیے درخواست گزاروں کے وکلا کو دو ہفتوں کی مہلت فراہم کر دی ہے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت پر پرائیویٹ ہسپتال ریگولیٹری اتھارٹی، محکم تعلیم، محکم ٹرانسپورٹ، لوکل گورنمنٹ اور دیگر تمام متعلقہ محکموں کے نمائندوں کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 نومبر 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔
