مولانا اسعد محمود کی وزارت مواصلات میں 222 ارب 6 کروڑ 68 لاکھ روپے کی مالی بےضابطگیوں کی آڈٹ رپورٹ، غریدہ فاروقی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سابقہ دور حکومت میں وفاقی وزارت مواصلات میں 222 ارب 6 کروڑ 68 لاکھ روپے کی مالی بےضابطگیوں پر آڈٹ رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں، یہ بے قاعدگیاں سال 2022-23ء کے دوران وزیر مواصلات و تعمیرات مولانا اسعد محمود کے دور میں ہوئیں۔ ایکس پر سینئر صحافی غریدہ فاروقی کی خبر کے تحت ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا فائدہ اٹھانے کیلئے مولانا فضل الرحمن نے اپنے انہی صاحبزادے کو گورنر خیبرپختونخوا بنانے کی شرط رکھی تھی، وزیر مواصلات و تعمیرات دور میں مولانا اسعد محمود کی کرپشن اور اقربا پروری نے ان کے کردار پر سوالات اٹھائے دیئے، آڈٹ رپورٹ کے مطابق دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی کے 40 کیس میں 4 کروڑ 88لاکھ روپے کی بے ضابطگی رپورٹ ہوئی۔
ہیومن ریسورس یعنی بھرتیوں سے متعلق 4 کیس میں مجموعی طورپر2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں ہوئیں، فنانس ڈویژن کی 30 ستمبر 2022 کو ہدایت کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ میں خالی 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تاہم نگران دور میں گریڈ1 سے 15 تک 4 ہزار252 بھرتیاں عمل میں لائی گئیں اور یوں 314 افراد کو قواعد و ضوابط کے برعکس سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔

خریداری کے 5مختلف کیس میں خزانے کو3 ارب 26 کروڑ16لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا، 20 مارچ 2018ء کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نے ایک حکمنامے کے ذریعے پاکستان پوسٹ آفس اورتمام محکموں کو ہدایت کی کہ اندرونی اور بیرونی خط و کتابت کیلئے پاکستان پوسٹ سروس کو استعمال کیا جائے تاکہ اس کی آمدن میں اضافہ ہو۔
تاہم پاکستان پوسٹ آفس نے 2022-23ء کے دوران وزیر اعظم کے ان حکامات کو رد کرتے ہوئے 4 پرائیویٹ کمپنی کی خدمات حاصل کیں اور اس عرصہ کے دوران انہیں 2 ارب 86 کروڑ83 لاکھ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا، کمرشل بینک کیساتھ غیرمجاز طور پر انتظامی معاملات کی مد میں 20 ارب 85 کروڑروپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
25 جون 2021 کو فنانس ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس کو نیشنل بینک آف پاکستان میں 3 اکاونٹس کھولنے کی منطوری دی تاہم فنانس ڈویژن کی واضح ہدایات کے باوجود پاکستان پوسٹ آفس نے نیشنل بینک آف پاکستان میں 5 اکاونٹ کھولے غیر قانونی طور پر کھولے گئے اکاونٹ میں 20ارب روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔
ایک اور کیس میں 49 کروڑ25لاکھ روپے کا خزانہ کو نقصان پہنچایا گیا، 11 مختلف کیس میں 3 ارب 74کروڑ 39لاکھ روپے وصولی کی نشاندہی کی گئی ۔ ان بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کے15دیگر مختلف کیس میں خزانہ کو 194 ارب54 کروڑ51لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

WhatsApp
Get Alert