پیرس بہت جلد مسلمانوں کا شہر بن جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

فرانس میں بڑے پیمانے پر امیگریشن کی پالیسی پر تنقید، صدر میکرون کو پہلے ہی سرحدیں بند کرنے کا مشورہ دیا تھا، یورپی ممالک نے امیگریشن پر قابو نہ پایا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا؛ امریکی صدر کی گفتگو


واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری احتجاج اور پرتشدد واقعات کے دوران ایک متنازع بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی دارالحکومت پیرس بہت جلد مسلمانوں کا شہر بن جائے گا، انہوں نے فرانس کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امیگریشن پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے صدر ایمانوئل میکرون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر نے پیر 19 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر کو کافی عرصہ پہلے خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر سے لوگوں کو فرانس آنے کی اجازت دینا ایک بڑی غلطی ثابت ہوگی، پیرس بہت جلد مسلمانوں کا شہر بننے جا رہا ہے اور ان کے بقول ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
صدر میکرون کو سرحدیں بند کرنے کا مشورہ دیا تھا، ٹرمپ
امریکی صدر نے کہا کہ ایمانوئل میکرون ان کے دوست ہیں، تاہم وہ کئی برسوں سے انہیں فرانس کی امیگریشن پالیسی کے ممکنہ نتائج کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں، انہوں نے فرانسیسی صدر سے کہا تھا کہ وہ اپنے ملک کی سرحدیں بند کریں کیونکہ بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد فرانس کیلئے مسائل پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے امریکا اور فرانس کی امیگریشن پالیسیوں کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے اپنی سرحدوں پر سخت اقدامات کیے جبکہ فرانس ایسا کرنے میں ناکام رہا، یورپی ممالک نے اگر اپنی سرحدوں اور امیگریشن کے معاملات پر قابو نہ پایا تو انہیں مستقبل میں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فرانس میں احتجاج اور پرتشدد واقعات کیوں ہو رہے ہیں؟
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس کے مختلف شہروں میں کئی ہفتوں سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، فرانسیسی تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی، اساتذہ کی قلت اور تعلیمی مسائل کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں بعد ازاں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور قوت خرید میں کمی جیسے معاشی مطالبات بھی شامل ہوگئے۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر فرانس کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جن میں بعض مقامات پر تشدد، لوٹ مار، املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، امریکی صدر نے ان واقعات کو امیگریشن سے جوڑا ہے، تاہم مظاہروں کے بنیادی مطالبات میں تعلیمی اور معاشی مسائل بھی شامل ہیں۔
فرانس میں مسلمانوں کی آبادی سے متعلق ٹرمپ کے بیان کی حقیقت
فرانس میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے، تاہم پیرس کے مستقبل میں مسلم اکثریتی شہر بننے کے حوالے سے ٹرمپ نے اپنے بیان میں کوئی مخصوص اعدادوشمار یا تحقیق پیش نہیں کی، فرانس میں مذہبی آبادی کے تفصیلی سرکاری اعدادوشمار محدود ہونے کے باعث پیرس کی موجودہ مسلم آبادی کے تناسب اور مستقبل میں اس کی ممکنہ تبدیلی سے متعلق حتمی دعویٰ کرنا بھی مشکل ہے۔
اس لیے امریکی صدر کے بیان کو ان کی سیاسی رائے اور امیگریشن سے متعلق مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ اس کو پیرس کی آبادی میں کسی تصدیق شدہ تبدیلی کے اعلان کے طور پر دیکھا جارہا۔

WhatsApp
Get Alert