مصری نوجوانوں سے گلے ملنے اور بوسہ لینے کی ویڈیوز وائرل، مشہور برازیلین ٹک ٹاکر کو مصر میں گرفتار کرلیا گیا

سوشل میڈیا پر ویڈیوز نے ہنگامہ کھڑا کردیا، غیر ملکی انفلوئنسر اور اس کی ساتھی خاتون اسکندریہ سے گرفتار، عوامی مقامات پر نامناسب حرکات اور ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کا الزام، مصری وزارت داخلہ نے کارروائی کی تصدیق کردی


قاہرہ (قدرت روزنامہ)مصر میں نوجوانوں کے ساتھ گلے ملنے اور بوسہ لینے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد برازیل سے تعلق رکھنے والی معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر مالیوولا ایلویس (Malévola Alves) کو ایک ساتھی خاتون سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مصری وزارت داخلہ نے 20 اکتوبر کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متنازع ویڈیوز کی تحقیقات کے بعد 2 غیر ملکی سیاح خواتین کو اسکندریہ سے حراست میں لیا ہے۔
برازیلین میڈیا کے مطابق گرفتار ہونے والی خواتین میں سوشل میڈیا انفلوئنسر مالیوولا ایلویس بھی شامل ہیں، جن کا اصل نام ماریانا ایلویس گاڈیلہا پریرا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مصر کے مختلف علاقوں میں بنائی گئی ویڈیوز ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس پر تیزی سے پھیلنے لگیں، جن میں برازیلین انفلوئنسر کو مصری نوجوانوں کے ساتھ گلے ملتے، بوسہ لیتے اور مختلف انداز میں ویڈیوز بناتے دیکھا گیا۔
ویڈیوز سامنے آنے کے بعد مصری سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور متعدد افراد نے ان مناظر کو مقامی معاشرتی اقدار اور روایات کے منافی قرار دیا۔
مصری نوجوانوں کے ساتھ ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا
مصری میڈیا کے مطابق برازیلین انفلوئنسر نے اپنے دورہ مصر کے دوران مختلف مقامات پر نوجوانوں کے ساتھ ملاقاتوں اور جسمانی قربت کے مناظر ریکارڈ کیے اور انہیں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا۔
ان ویڈیوز میں بعض نوجوان انفلوئنسر سے گلے ملتے اور بوسہ لیتے دکھائی دیے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی شناخت، ویڈیوز بنانے کے مقصد اور انہیں عوامی سطح پر شیئر کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھنے لگے۔ بعض صارفین نے اعتراض کیا کہ ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد کو ممکنہ طور پر اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا کہ ان کی تصاویر اور ویڈیوز کس انداز میں لاکھوں لوگوں تک پہنچیں گی۔
دوسری جانب کچھ افراد نے اسے سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ ویوز اور شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ اس تنازع نے مصر میں عوامی مقامات پر ویڈیوز بنانے، لوگوں کی نجی زندگی کے احترام اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ذمہ داریوں سے متعلق بحث بھی چھیڑ دی۔


مصری وزارت داخلہ نے گرفتاری کی تصدیق کردی
مصری وزارت داخلہ نے اپنے سرکاری بیان میں بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں 2 غیر ملکی سیاح خواتین مختلف علاقوں کی سڑکوں پر مبینہ طور پر جنسی نوعیت کے اشارے، نامناسب حرکات اور راہگیروں کو ہراساں کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔
وزارت کے مطابق پولیس نے ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد دونوں خواتین کی شناخت کی اور انہیں اسکندریہ کے علاقے سے گرفتار کرلیا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران دونوں خواتین نے ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا اعتراف کیا، جبکہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنا تھا۔ مصری وزارت داخلہ کے مطابق دونوں خواتین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور معاملہ مزید تحقیقات کیلئے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔
تاہم وزارت داخلہ کے بیان میں گرفتار خواتین کے نام یا شہریت واضح نہیں کی گئی تھی۔ برازیلین ذرائع ابلاغ نے مالیوولا ایلویس کی شناخت اور گرفتاری کی تصدیق ان کے سوشل میڈیا بیانات اور قانونی نمائندے کے حوالے سے کی ہے۔
گرفتار برازیلین انفلوئنسر مالیوولا ایلویس کون ہیں؟
برازیلین میڈیا کے مطابق 22 سالہ مالیوولا ایلویس ایک ٹرانس جینڈر سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں، جو ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر فیشن، روزمرہ زندگی، سفر اور تفریحی ویڈیوز کے ذریعے شہرت رکھتی ہیں۔
سی این این برازیل کے مطابق ان کے ٹک ٹاک پر تقریباً 9 لاکھ فالوورز ہیں۔ مصر کے دورے کے دوران انہوں نے مختلف مقامات کی ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیں، تاہم مقامی نوجوانوں کے ساتھ بنائی گئی بعض ویڈیوز سامنے آنے کے بعد معاملہ تنازع کی شکل اختیار کرگیا۔ مصری سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے ان کی صنفی شناخت کو بھی موضوع بنایا، جبکہ دیگر نے سوال اٹھایا کہ کسی شخص کی شناخت سے قطع نظر عوامی مقامات پر لوگوں کی رضامندی اور مقامی قوانین کا احترام کس حد تک ضروری ہے۔
گرفتاری کے بعد برازیلین انفلوئنسر کے وکیل کا بیان بھی آگیا
برازیلین خبر رساں اداروں کے مطابق مالیوولا ایلویس نے گرفتاری سے قبل سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ انہیں اور ان کی ساتھی کو اسکندریہ میں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، جہاں ان کے پاسپورٹ بھی تحویل میں لیے گئے۔ ان کے مطابق پولیس نے دونوں خواتین سے ان کی صنفی شناخت کے بارے میں بھی سوالات کیے۔
بعد ازاں انفلوئنسر کے وکیل جوناتھا کاروالہو ماتوس نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ قانونی ٹیم قاہرہ میں برازیل کے سفارت خانے اور متعلقہ مصری حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وکیل کے مطابق ان کی ترجیح گرفتار انفلوئنسر کی جسمانی سلامتی، تحفظ اور قانونی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ٹیم معاملے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
مصر میں سوشل میڈیا ویڈیوز پر قانونی کارروائی کا معاملہ
مصر میں سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے مواد اور عوامی اخلاقیات سے متعلق قوانین کے تحت اس سے پہلے بھی مختلف انفلوئنسرز کے خلاف کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل ماضی میں مصری حکام کی جانب سے بعض ٹک ٹاک انفلوئنسرز اور صنفی اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں پر تحفظات ظاہر کرچکی ہے۔
تاہم موجودہ واقعے میں مصری حکام نے گرفتاری کی وجہ عوامی مقامات پر مبینہ نامناسب حرکات، جنسی اشاروں اور راہگیروں کو ہراساں کرنے کے الزامات کو قرار دیا ہے، نہ کہ محض گرفتار انفلوئنسر کی صنفی شناخت کو۔ اس معاملے میں ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں خواتین کے خلاف کون سی مخصوص دفعات کے تحت باضابطہ الزامات عائد کیے جائیں گے یا عدالت میں مقدمے کی کارروائی کب شروع ہوگی۔ برازیلین انفلوئنسر اور ان کی ساتھی کی گرفتاری کے بعد مصر میں وائرل ہونے والی ویڈیوز کا معاملہ اب سوشل میڈیا کے تنازع سے آگے بڑھ کر قانونی تحقیقات تک پہنچ گیا ہے۔ دونوں خواتین کے خلاف الزامات کی حتمی قانونی حیثیت اور ممکنہ سزا کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔

WhatsApp
Get Alert