جنرل عاصم منیر کے ساتھ ایرانی عہدیدار محسن رضائی کے رویے پر عرب میڈیا اور مبصرین کی شدید تنقید
ایرانی صدر کے پُرتپاک استقبال اور محسن رضائی کے سرد رویے کا موازنہ، سعودی مبصر نے سخت الفاظ میں تنقید کردی، سابق کویتی وزیر نے صدام حسین کی مثال دے دی، عمر غنیم نے پاکستانی فوج اور قوم کی بہادری کو سراہتے ہوئے قیادت کو قومی وقار کا خیال رکھنے کا مشورہ دے دیا

تہران(قدرت روزنامہ) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران ایرانی عہدیدار محسن رضائی کے مبینہ سرد رویے پر عرب میڈیا اور مبصرین کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ سعودی مبصر ڈاکٹر حمدان الشہری، سابق کویتی وزیر اطلاعات سعد بن طفلة اور عمر غنیم نے ایرانی عہدیدار کے انداز پر سوالات اٹھاتے ہوئے مختلف تبصرے کیے ہیں، جبکہ پاکستانی قیادت کو قومی وقار اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔
عرب نیوز چینلز الحدث اور العربیہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور محسن رضائی کی پاکستانی فوجی سربراہ کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں کی ویڈیوز کا موازنہ کرتے ہوئے استقبال کے انداز میں نمایاں فرق کی نشاندہی کی ہے۔ الحدث کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا انتہائی گرمجوشی سے استقبال کیا، ان سے مصافحہ کیا اور خوشگوار انداز میں ملاقات کی، جبکہ محسن رضائی کی ملاقات میں ماحول نسبتاً سرد اور رسمی دکھائی دیا۔
عرب میڈیا کی جانب سے اس فرق کو نمایاں کیے جانے کے بعد مختلف مبصرین نے ایرانی عہدیدار کے رویے پر سخت ردعمل دیا ہے۔
اتمنى ان يوصل احد رسالتي للاخوة الباكستانيين
انتم رجال اشداء. تعرفكم الجبال والوديان. ونعرف تاريخكم النضالي وبأسكم الحديدي لانتزاع استقلال بلادكم ونعرف القيم الكبرى التي قامت عليها روح العسكرية الباكستانية الصلبة.
هذه الميوعة التي تبدون عليها وانتم تقابلون الايرانيين … وهذا التهافت على الاحضان والقبل والضم الطويل وطريقة الجلوس المنكمشة وخاصة وزير داخليتكم، ويقابلها برود وتعالي اجوف يواجهكم به الايرانيون،، وتصريحاتهم السامة الطاعنة بكم عندما تغادرون … هذا السلوك المفرط بلينه منكم ،،، لا يليق بتاريخكم ولا بارث محمد علي جناح الخالد
شدوا نفسكم شوي ..
— Omar Ghanim (PhD) (@DrOmarGhanim) October 20, 2026
پاکستانی قوم اور فوج بہادر ہیں، اپنی تاریخ اور وقار کو یاد رکھیں
عمر غنیم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں عمر غنیم نے پاکستانی قوم اور فوج کی بہادری اور تاریخی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کے نام خصوصی پیغام دیا۔
انہوں نے لکھا کہ میری خواہش ہے کہ میرا یہ پیغام پاکستانی بھائیوں تک پہنچے۔ عمر غنیم نے پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عظیم بہادر لوگ ہیں، پہاڑ اور وادیاں آپ کی تاریخ سے واقف ہیں، ہم آپ کی آزادی کی جدوجہد اور مضبوط عزم کو جانتے ہیں اور ان عظیم اقدار سے بھی واقف ہیں جن پر پاکستانی فوج کی مضبوط بنیادیں قائم ہیں۔ تاہم انہوں نے ایرانی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران پاکستانی قیادت کے انداز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت سے زیادہ گرمجوشی، بار بار گلے ملنے اور طویل مصافحوں کا انداز ایسے افراد کے سامنے مناسب نہیں جو جواب میں سردمہری اور تکبر کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے خاص طور پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیٹھنے کے انداز کا ذکر کرتے ہوئے اسے حد سے زیادہ نرم قرار دیا۔ عمر غنیم نے الزام عائد کیا کہ ایرانی عہدیدار پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں سرد رویہ اختیار کرتے ہیں اور بعد میں ان کے بارے میں سخت تبصرے بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تاریخی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کو اپنے ملک کی تاریخ اور قومی وقار کے مطابق طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے پاکستانیوں کو خود کو سنبھالنے اور زیادہ خوداعتمادی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔
سعودی مبصر ڈاکٹر حمدان الشہری نے بھی ایرانی عہدیدار کو آڑے ہاتھوں لے لیا
سعودی مبصر ڈاکٹر حمدان الشہری نے بھی محسن رضائی کے رویے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا۔
انہوں نے لکھا کہ پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی عہدیدار محسن رضائی کی جانب سے ایسا انداز دیکھا جسے انہوں نے انتہائی نامناسب قرار دیا۔ ڈاکٹر حمدان الشہری نے اپنے بیان میں محسن رضائی کے رویے کو ’’قبیح چہرہ اور فعل‘‘ سے تعبیر کیا۔ ان کے اس سخت تبصرے نے بھی عرب سوشل میڈیا پر ایرانی عہدیدار کے استقبال کے انداز سے متعلق تنقید کو نمایاں کیا۔
وزير الإعلام الكويتي السابق سعد بن طفلة عن لغة جسد وطريقة استقبال محسن رضائي لقائد الجيش الباكستاني: هناك أكثر من قيادة في إيران تفكر ليس "خارج الصندوق" وإنما تفكر خارج الواقع https://t.co/rtMpzqJ9jk
— العربية (@AlArabiya) October 20, 2026
سابق کویتی وزیر نے محسن رضائی کے رویے کا صدام حسین سے موازنہ کردیا
عرب نیوز چینل العربیہ کے ایک پروگرام میں سابق کویتی وزیر اطلاعات سعد بن طفلة نے بھی محسن رضائی کے رویے اور طرز فکر پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے محسن رضائی کی جانب سے پاکستانی فوجی سربراہ کے استقبال کا موازنہ سابق عراقی صدر صدام حسین کے اس طرز عمل سے کیا جو انہوں نے 1990ء میں کویت پر عراقی قبضے کے بعد عالمی دباؤ اور انخلا کے مطالبات کے دوران اختیار کیا تھا۔
سعد بن طفلة نے کہا کہ اس قسم کی سوچ کو روایتی انداز سے ہٹ کر سوچنا نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ حقیقت سے دور ہونے کی مثال ہے۔ سابق کویتی وزیر کے تبصرے میں ایرانی عہدیدار کے سفارتی انداز کے ساتھ تہران کے موجودہ علاقائی مؤقف پر بھی تنقید کی گئی۔
محسن رضائي لقائد الجيش الباكستاني: إيران ترفض إخراج أي مواد نووية مخصبة.. هذه المواد هي رأس المال والثروة لشعبنا https://t.co/Q3ShhbPjf9
— العربية (@AlArabiya) October 20, 2026
ایرانی صدر نے گرمجوشی دکھائی، محسن رضائی کا انداز مختلف کیوں تھا؟
الحدث اور العربیہ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور محسن رضائی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقاتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔
ایرانی صدر کی ملاقات میں خوشگوار ماحول، مسکراہٹوں اور گرمجوش مصافحے کو نمایاں کیا گیا، جبکہ محسن رضائی کی ملاقات میں نسبتاً سنجیدہ چہرے اور رسمی انداز کو تنقید کا موضوع بنایا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دونوں ملاقاتوں کے انداز میں نظر آنے والا فرق محض شخصی رویے کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی سفارتی یا سیاسی وجہ بھی موجود تھی۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ایسی وضاحت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ محسن رضائی کا مقصد پاکستانی فوجی سربراہ کی دانستہ توہین کرنا تھا۔
پاکستان کی ثالثی کے باوجود ایران اپنے سخت مؤقف پر قائم
یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محسن رضائی نے پاکستانی فوجی سربراہ سے ملاقات میں واضح کیا کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے واشنگٹن کو پہلے اعتماد سازی کے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کے دوران ایران کی شرائط پر زور دیا۔
عرب نیوز چینل الجزیرہ اور اخبار الشرق الاوسط نے بھی پاکستانی فوجی سربراہ کے دورہ تہران کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی تعطل اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں رپورٹ کیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستانی فوجی سربراہ سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی۔ یوں ایک جانب پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرانے کیلئے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب ایرانی عہدیدار کے استقبال کے انداز پر عرب میڈیا اور مبصرین کی تنقید سامنے آئی ہے۔
تاہم محسن رضائی کی باڈی لینگویج کے بارے میں کیے گئے تبصرے متعلقہ مبصرین کی آراء ہیں، انہیں ایران کے پاکستان کے بارے میں سرکاری مؤقف یا کسی دانستہ سفارتی توہین کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
