پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر سستا کردیا گیا جبکہ ڈیزل فی لیٹر 31 پیسے مہنگا کردیا گیا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت 379 روپے 31 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 390 روپے 11 پیسے مقرر کردی گئی۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جیو نیو زکے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت جنگ کے غیرمعمولی حالات سے گزر رہے ہیں، جنگ ہمارے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر بیٹھی ہوئی ہے، فیلڈ مارشل اور وزیرداخلہ نے کل بھی ایران میں جاکر ایک کاوش کی ہے، اس کے اندر کامیابی سے تیل اور گیس کی قیمتوں کا مستقل حل نکلے گا۔
ایل پی جی کی ہماری یومیہ 7ہزار ٹن کی کھپت ہے، اس میں اڑھائی ہزار ٹن مقامی طور ہماری ریفائنری کمپنیوں سے حاصل کرتے ہیں باقی کی ضرورت امپورٹ کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔ ایران اس کی پیداوار کے اندر بہت بڑا پلیئر ہے، جنگ کے بعد سپلائی کم ہونا شروع ہوئی اور ادھر طلب بڑھنا شروع ہوئی ہے سمندر کے ذریعے جو امپورٹ کرنی ہے اس میں مسائل کو حل کرنا ہوں گی۔
تیل اور ایل پی جی کی قیمت کیسے طے ہوتی ہے؟ جس طرح پیٹرول کا یومیہ ریٹ نکلتا ہے ، اور قیمت کو طے کرتے ہیں، اسی طرح ایل پی جی دو گیسوں کا مجموعہ ہے، آرامکو ہر مہینے اس کی قیمت جاری کرتی ہے جس کو ہم سی پی پرائس کہتے ہیں، وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ ایل پی جی نظام کے اندر بھی شفافیت لے کر آئے،آرامکوکی 705ڈالر کے اوپر سی پی پرائس ہے، اس پر 350 ڈالر خرچہ آتا ہے۔
ہزار ڈالر کے اوپر اگر ورکنگ کریں گے توایل پی جی کا11.8کلو کا سلنڈر ساڑھے 4 ہزار سے 5ہزار تک ملنا چاہئے۔
ایل پی جی کی فی کلو قیمت 400 یا 425روپے کے درمیان ہونی چاہئے۔ لیکن یہ لوگ ایک غریب آدمی کی تکلیف اور گیس کی قلت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، ان کو پتا ہے کہ سمندر میں ایل پی جی کی سپلائی آنے میں مسئلہ ہے، اس لئے جو ایل پی جی پہنچ چکی ہے اس میں قلت کرکے ناجائز منافع خوری کرکے عوام کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو خبردار کررہا ہوں کہ لوگوں کی مجبوری کا فائدہ مت اٹھائیں۔
