مریم نواز نے پولیس مقابلوں کا حکم نہیں دیا، حنا پرویز بٹ کی پوسٹ سے حکومت کو بھی شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے، عظمیٰ بخاری کا سخت ردعمل
ملتان میں بچے کو کچلنے والے ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کو فوری انصاف قرار دینے پر تنازع، حنا پرویز بٹ نے تنقید کے بعد پوسٹ ڈیلیٹ کردی تھی

لاہور(قدرت روزنامہ)پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ کی جانب سے ملتان میں کمسن بچے کی ہلاکت کے مقدمے کے ملزم کی پولیس مقابلے میں موت کو فوری انصاف قرار دینے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے نہ صرف وہ خود بلکہ حکومت کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری سے حنا پرویز بٹ کی اس پوسٹ کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انہوں نے ملزم کی ہلاکت کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت میں فوری انصاف قرار دیا تھا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ حنا پرویز بٹ کی پوسٹس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتیں، تاہم ان کے بیانات کی وجہ سے حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حنا پرویز بٹ نے کیا کہا تھا اور پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی؟
واضح رہے کہ ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ یہ مریم نواز کی حکومت ہے جہاں فوری انصاف ملتا ہے۔
حنا پرویز بٹ نے سی سی ڈی کے انکاؤنٹر پہ پوسٹ کی کہ یہ مریم صفدر کی حکومت ہے یہاں فوری انصاف ملتا ہے ! شاہزیب ۔۔
حنا بٹ کتنی سیریس ٹوئٹس کرتی ہیں میں ان کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرنا چاہتی وہ اس قسم کی باتیں کر جاتی ہیں جو ان کے لیے بھی پرابلم ہوتی ہے اور حکومت کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ! عظمی بخاری ۔۔— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) October 21, 2026
ان کے اس بیان پر صحافیوں، وکلا اور سوشل میڈیا صارفین نے سخت اعتراض کیا اور سوال اٹھایا کہ کسی ملزم کو عدالتی کارروائی اور سزا کے بغیر پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کو انصاف کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ تنقید بڑھنے کے بعد حنا پرویز بٹ نے اپنی متعلقہ پوسٹ حذف کردی۔
صحافی بشیر چوہدری، سدرہ ڈار اور دیگر مبصرین نے پولیس مقابلوں کو فوری انصاف قرار دینے کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو سزا دینے کا اختیار عدالتوں کے پاس ہے اور پولیس کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاسکتا۔
ملزم عدالت میں بھی پیش ہوتا تو سزا پاتا، عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات پنجاب نے ملتان واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس کے مطابق ملزم توقیر نذیر حراست سے فرار ہوگیا تھا اور اسے چھڑانے کیلئے دو افراد بھی آئے تھے۔ ملزم کے فرار کے بعد ناکہ بندی کی گئی اور بہاولپور کے قریب اسے روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم متعلقہ افراد نہیں رکے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملزم عدالت میں بھی پیش ہوتا تو اسے سزا ہوجاتی۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پولیس کو مقابلوں کے احکامات دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی ڈی کے ہر مقدمے کا نتیجہ پولیس مقابلے کی صورت میں نہیں نکلتا اور محکمے کے قیام کے بعد پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ مقابلوں میں سی سی ڈی کے 7 اہلکار شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
وسیم عباس دو وقت کی روٹی کے عوض کام کرتا تھا، وزیر اطلاعات کا انکشاف
عظمیٰ بخاری نے ملتان میں جاں بحق ہونے والے کمسن وسیم عباس کے حالات زندگی سے متعلق بھی افسوسناک تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق والد کے انتقال کے بعد بچے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا تھا اور وہ محض دو وقت کی روٹی کے عوض ملزم کے پاس کام کرتا تھا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بچے نے پہلے بھی وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرے۔
دوسری جانب ملزم توقیر نذیر کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے حالات سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔
پولیس نے واقعے کو مقابلہ قرار دیا ہے، تاہم ملزم کی موت کے حالات کا حتمی تعین شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
حنا پرویز بٹ کے بیان پر عظمیٰ بخاری کا ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملتان میں وسیم عباس اور اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کے مقدمات کے ملزمان کی پولیس مقابلوں میں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں فوری انصاف اور ماورائے عدالت کارروائیوں سے متعلق بحث جاری ہے۔
