پارٹی ڈسپلن کے نام پر عمران خان کو مائنس نہیں ہونے دیں گے، سینیٹر مشال یوسفزئی

قابض لوگ عمران خان کا سوچنے کی بجائے اپنا قبضہ رکھنا چاہتے ہیں، خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کا بڑا امتحان کہ سیاسی کمیٹی ان کو کوئی لائحہ عمل نہیں دے رہی، دعا ہے کہ پارٹی نیولے کی سازشوں سے محفوظ رہے۔ رہنماء پی ٹی آئی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)رہنماء پی ٹی آئی سینیٹر مشال یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کے نام پر عمران خان کو مائنس نہیں ہونے دیں گے، قابض لوگ عمران خان کا سوچنے کی بجائے اپنا قبضہ رکھنا چاہتے ہیں، دعا ہے کہ پارٹی نیولے کی سازشوں سے محفوظ رہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کا موجودہ حالات میں سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ پارٹی کی پولیٹکل کمیٹی انکو کوئی لائحے عمل نہیں دے رہی ہے ، نا ہی انکو ، بی ،سی ، ڈی پلان کا پتہ ہے ،لانگ مارچ کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے مطالبے کو پارٹی ڈسپلن کے نام پر دبایا جارہا ہے اور انہی کا پیچھے سوشل میڈیا پر پیڈ بیانیہ بنانے والے اکاؤنٹس سے ٹویٹس اور وائیلاگز کروائے جارہے ہیں ۔
آج بھی پارٹی کے وہ لوگ جو پنجاب میں اپنا منڈیٹ نہیں بچا سکے اور ذاتی مقاصد کے لیے کے پی میں اپنی اجاراداری قائم رکھنا چاہتے ہیں ، جنہوں نے سوشل میڈیا پر پیسے دے کر اپنا آپ کو ٹارزن اور وفادار ہونے کا بیانیہ بنایا ہوا تھا اور جب وقت آیا تو سہولت کاری کر کے بزدلوں کے طرح پیچھے ہوگئے ، خیبر پختونخوا کے ایم اپی ایز کے جائز ڈیمانڈ کو ماننے سے بھی انکاری ہے کہ یا تو مزاحمت کرے یا مزاکرات کرے اور اگر اب مزاکرات ہو تو ایک ایم پی اے نمائندہ بھی موجود ہوگا ( نمائندہ وہ ہوگا جس کو پوری پارلیمانی پارٹی ووٹ دے گی ) لیکن عمران خان صاحب کا سوچنے کی بجائے قابض اپنا قبضہ رکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہی نہیں ہے کہ خان صاحب سے ملاقات ہو ۔
صاف صاف بتا رہے ہیں پارٹی ڈسپلن کے نام پر خان صاحب کو مائنس نہیں ہونے دیںگے ۔ خان صاحب تک رسائی کے لیے راستہ چنے ، ورنہ عہدے چھوڑ دے ۔ اللّٰہ اس پارٹی کو نیولے کے حسد اور سازشوں سے محفوظ رکھے ۔ مائنس ون نا منظور ۔
یاد رہے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے جاری بیان میں کہاکہ پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اس وقت غیرجمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیانیہ پھیلایا جارہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے 68 ارکان بطور گروپ فیصلہ کرنے والے ہیں۔ کہا جارہا ہے بانی اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر وزیراعلی کا فیصلہ ہونے والا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ کہا جارہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں سہیل آفریدی اور ٹیم سے رابطہ منقطع کیا تھا۔ کہا جارہا ہے اسی گروپ نے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔
پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہ کرلی جائیں تب تک کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ جنید اکبر خیبر پختونخوا میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ جنید اکبر کا تقرر بانی پی ٹی آئی نے خود کیا ہے، ان کی غیر موجودگی میں صوبے کے قائم مقام صدر علی اصغر خان ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیراعلی خیبر پختونخوا ہیں، وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert