زیرِ حراست ملزمان کی جعلی مقابلوں میں ہلاکتیں آئین و قانون کا قتل عام ہیں: سینیٹر کامران مرتضیٰ

پولیس کی مبینہ زیادتیوں سے ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کا گراف گر گیا، سینیٹ میں فوری محکماتی اصلاحات کا مطالبہ


کوئٹہ، اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضی نے سینیٹ کے اجلاس میں رول 218 کے تحت ملک بھر میں پولیس کی مبینہ زیادتیوں اور جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایوان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضی نے اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کیس کے مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت اور ملتان کے 15 سالہ یتیم لڑکے کے قتل کے ملزم توقیر کی بہاولپور نادرن بائی پاس کے قریب پولیس مقابلے میں مارے جانے کے واقعات کا خصوصی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس زیرِ حراست یا زیرِ تفتیش ملزمان کو باقاعدہ قانونی عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے مبینہ مقابلوں میں ہلاک کر رہی ہے جو قانون اور آئین کی شدید خلاف ورزی ہے۔جے یو آئی کے سینیٹر نے مزید کہا کہ پاکستان میں پولیس کے محکمے کو اس وقت سنگین ساختی، سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں قانون کی حکمرانی اور پولیس پر عوامی اعتماد کا گراف خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی، ناقص رویوں اور غیر قانونی اقدامات کے تاثر کی وجہ سے عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے، جس کا فوری تدارک اور محکمے کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

WhatsApp
Get Alert