خیبرپختونخواہ میں کرپشن کے انباروں اور پہاڑوں میں سے صرف چند مثالیں ہی انتہائی ہوشرُبا کرپشن ہیں، شہبازشریف

پشاور (قدرت روزنامہ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں کرپشن کے انباروں اور پہاڑوں میں سے صرف چند مثالیں ہی انتہائی ہوشرُبا کرپشن ہیں، صاف پانی پراجیکٹ میں 100 ارب روپے کی کرپشن، بدنامِ زمانہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کوہستان میں 37 ارب روپے ہڑپ کئے گئے، گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے اور اربوں روپے کی کرپشن، ابھی صرف تین مثالیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا انتہائی خوبصورت صوبہ خیبر پختونخوا، جہاں بڑے غیور اور عظیم لوگ بستے ہیں، آج میرا دورہ اس نظام کے حوالے سے ہے، جس کا نفاذ ہمیں انتہائی مجبوری کی حالت میں کرنا پڑا۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں ہمت اور رہنمائی عطا فرمائے تاکہ ہم مل کر صوبے کے حالات بہتر بنائیں اور اسے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں۔
حالیہ المناک سانحے میں شہید استاد اور بچوں کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ میں نے گورنر صاحب سے کہا تھا کہ وہ بچوں کے ورثا سے ملاقات کریں اور سانحے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائیں۔ مجھے امید ہے کہ گورنر صاحب اس معاملے پر پوری توجہ دے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا وطنِ عزیز کی انتہائی اہم اور مضبوط دیوار ہے، مگر افسوس کہ گزشتہ چند سالوں میں یہاں دوبارہ ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ صوبہ زخموں سے چُور چُور ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ 2017-18 میں یہاں کے غیور عوام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور افواجِ پاکستان نے یکجان ہو کر دہشت گردی کا قلع قمع کیا اور پورے ملک میں امن قائم کیا۔ اس امن کے قیام کے لیے 80 ہزار افراد نے جانوں کی قربانیاں دیں اور ملکی معیشت کو کئی سو ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان عظیم قربانیوں کے نتیجے میں جو امن قائم ہوا، اس کے بعد جس طریقے سے ان دہشت گردوں کو دوبارہ یہاں بلوایا گیا، اس نے تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑا ظلم اس ملک کے ساتھ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ ہمارے دلیر جوان اپنے والدین سے جلد گھر لوٹنے کا وعدہ کر کے جاتے تھے، مگر واپس نہ آئے۔ وہ اپنے بچوں کو یتیم کر گئے، لیکن قوم کے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا گئے۔ ایسی قربانیوں کا احترام نہ کرنا ملک دشمنی سے کم نہیں۔ آج ہمیں جائزہ لینا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ تعلیم، علاج اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو نظرانداز کیا گیا۔
گزشتہ چند سالوں کی بے حسی اور لاتعلقی کے نتیجے میں دہشت گردی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ یہی وہ دردناک کہانی ہے جس کے حوالے سے ہم آج یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پچھلی حکومت کے دور میں پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں کو پُر نہیں کیا گیا، سیف سٹی منصوبے مکمل نہ ہوئے، جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی صلاحیت، پولیس کی تربیت اور پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے صوبوں کے حصے سے ایک فیصد اضافی وسائل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 2010 سے اب تک اس مد میں 800 ارب روپے سے زائد رقم فراہم کی جا چکی ہے یا کی جا رہی ہے۔ اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اتنے وسائل ہونے کے باوجود یہاں دہشت گردی کا خاتمہ تو دور کی بات ہے، دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا چکی ہے۔
اس کے علاوہ، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جن ہتھیاروں، جس صلاحیت اور جن تربیت یافتہ افسران کی ضرورت تھی، ان کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ یہاں پہلے گنڈاپور تھے اور اب آفریدی ہیں۔ وفاق نے ان دونوں سے کہا کہ ہم ایک ہیں اور مل کر نا صرف دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، بلکہ ان شاء اللہ آپ کے صوبے کے لیے ہمارے پاس جو بھی وسائل ہیں، انہیں حتی المقدور آپ کے قدموں میں نچھاور کریں گے، بشرطیکہ آپ شفاف طریقے سے ان وسائل کو استعمال کریں اور اس صوبے کو بہت آگے لے کر جائیں۔
مگر اس حوالے سے کچھ نہ ہوا۔ تو جب کوئی سیاسی جماعت اس طرح کی ملک دشمنی پر اتر آئے، تو کیا آپ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہیں گے اور ملک کو تباہ ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا اور کوئی ذی شعور انسان، کوئی قوم اور کوئی معاشرہ اپنی قوموں کے ساتھ اس طرح کا سنگین مذاق برداشت نہیں کر سکتا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ اگر دوستوں کو چھوڑ کر اغیار بھی یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ پاکستان نے مشکل ترین حالات میں اپنی معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے اور وہ ترقی کی طرف گامزن ہونے جا رہا ہے، تو ایسے موقع پر اگر دہشت گرد خیبر پختونخوا کے تمام علاقوں میں دندناتے پھریں اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں تو نہ قوم ہمیں معاف کرے گی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ۔
لہٰذا، ہم نے ایک آخری کوشش کی اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر مشتمل اپنی ایک ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم کے ارکان نے 48 گھنٹے مسلسل محنت کی۔ یہاں دو اہم ارکان، محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ موجود ہیں۔ انہوں نے دن رات محنت کی۔ خدا گواہ ہے کہ ان کی کوشش یہی تھی کہ یہ معاملہ طے ہو جائے۔ مگر اس کے بعد کی کہانی سب کو معلوم ہے۔ یہ وہ انتہائی سنگین حالات تھے جن کی بنیاد پر ہمیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے اندر دن رات دہشت گردی جاری ہے۔ وہاں سے دہشت گرد پاکستان میں حملے کرکے بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں، تو آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ اس کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا۔
معزز اراکین، مشاورت کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے دگرگوں حالات بہتر بنانے کے لیے یہاں گورنر راج نافذ کیا جائے۔
الحمدللہ، ایک ایڈوائزری کونسل بھی قائم ہو گئی ہے، جس کی اکثریت پیشہ ور ماہرین پر مشتمل ہے۔ اب ان کی ذمہ داری ہے کہ گورنر صاحب کی قیادت میں شبانہ روز محنت کرکے صوبے کے حالات بہتر بنائیں۔
گزشتہ 13 سال سے صوبے کے عوام ہسپتالوں میں ادویات، بہتر علاج، معیاری تعلیم، امن و امان، کرپشن میں کمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منتظر ہیں۔
ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ کی مدد اور آپ سب کے تعاون سے سکیورٹی، معاشی اور معاشرتی حالات میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ اگر میں یہاں ہونے والی کرپشن کے ان انباروں اور پہاڑوں میں سے صرف چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کروں، تو یہ ہوش رُبا کرپشن کی مثالیں ہیں۔ سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ، جو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کا منصوبہ تھا، اس میں 100 ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔
اسی طرح بدنامِ زمانہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کوہستان میں ہونے والی لوٹ مار کے ذریعے اس صوبے کے عوام کے 37 ارب روپے ہڑپ کر لیے گئے، لیکن کسی نے پوچھا تک نہیں۔ پھر ایک گولڈ پراجیکٹ ہے، جہاں من پسند افراد کو ٹھیکے دیے گئے اور اس طرح وہاں بھی اربوں روپے کی کرپشن کی گئی۔ یہ وہ تین مثالیں ہیں جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں اور جو اس وقت کی صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہیں۔
