سعودی عرب میں کشیدگی بڑھ گئی، آرامکو کے مرکزی دفتر کو خالی کرانے کا حکم، ملازمین گھروں سے کام کریں گے

ظہران میں دنیا کی بڑی تیل کمپنی کے ہیڈکوارٹر سے باقی عملے کو بھی نکلنے کی ہدایت، چند روز قبل حوثی حملوں میں عمارت کی کئی منزلوں کو نقصان پہنچا تھا، دمام ایئرپورٹ پر تازہ حملے میں 2 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، رائٹرز


ریاض(قدرت روزنامہ)سعودی عرب میں حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث سکیورٹی خدشات بڑھنے کے بعد دنیا کی بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے مشرقی صوبے کے شہر ظہران میں واقع اپنے مرکزی دفتر کو خالی کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ کمپنی کے ملازمین کو اگلے احکامات تک گھروں سے کام کرنے کا کہا گیا ہے، جبکہ یہ فیصلہ دمام کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے تازہ حملے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ 6 ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آرامکو نے اپنے ہیڈکوارٹر میں موجود عملے کو عمارت چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ علاقائی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کمپنی نے مرکزی دفتر سے ملازمین کے انخلا کا حکم دیا ہے۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تازہ ہدایات کس مخصوص خطرے کے پیش نظر جاری کی گئی ہیں۔
آرامکو نے خبر رساں ادارے کی جانب سے رابطہ کرنے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر پہلے بھی حملہ ہوچکا، عمارت کی کئی منزلیں متاثر
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آرامکو کے بیشتر غیر ضروری ملازمین گزشتہ ہفتے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کے بعد سے گھروں سے کام کر رہے تھے، تاہم اب دفتر میں موجود ضروری عملے کو بھی واپس جانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہران میں قائم آرامکو کمپلیکس کے رہائشی حصوں کو خالی نہیں کرایا گیا۔
رائٹرز کے مطابق رواں ماہ حوثیوں نے آرامکو کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور کئی منزلوں تک آگ پھیل گئی۔ اے ایف پی نے بھی اپنے ذرائع کے حوالے سے عمارت کی بالائی منزلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے، تاہم نقصان کی مکمل نوعیت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
آرامکو کا ظہران ہیڈکوارٹر سعودی عرب کے تیل اور گیس کے شعبے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں قائم آپریشنز سینٹر کے ذریعے کمپنی کے تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، برآمدی مراکز اور ہزاروں کلومیٹر طویل پائپ لائنوں کے نظام کی نگرانی کی جاتی ہے۔
دمام ایئرپورٹ پر حملے میں 2 افراد ہلاک، شیبہ آئل فیلڈ بھی نشانہ بنی
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق بدھ کی شام دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں 2 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔
دمام کا شہر آرامکو کے ظہران ہیڈکوارٹر سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ہوائی اڈے پر فضائی آپریشن بعد میں بحال کر دیا گیا۔
اسی روز سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ ملک کے جنوب مشرق میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ایک ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا، تاہم اس واقعے میں بھی 2 افراد جان سے گئے۔
سعودی عرب میں اہم تنصیبات کی سکیورٹی سخت، عالمی منڈی میں تشویش
سعودی عرب نے حالیہ حوثی حملوں کے جواب میں یمن میں میزائل لانچر کے مقامات پر کارروائیاں کی ہیں اور ملک کی اہم تنصیبات کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق متعدد میزائل اور ڈرون حملے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنائے جاچکے ہیں۔
دوسری جانب مسلسل حملوں اور آرامکو کے مرکزی دفتر سے عملے کے انخلا کی خبروں نے عالمی توانائی کی منڈی میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ آرامکو سعودی عرب کی معیشت اور عالمی تیل کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، تاہم ابھی تک ایسی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی کہ تازہ انخلا کے باعث کمپنی کی تیل کی پیداوار یا برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ کمپنی کی جانب سے مرکزی دفتر خالی کرانے کی مخصوص وجہ اور ملازمین کی واپسی کی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert