لاہور میں موٹرسائیکل سوار کا لڑکی کو سکوٹی سے نیچے گرا کر تشدد، تھپڑ مارے، بال نوچے، ملزم گرفتار
ملزم نے مزنگ لنک روڈ پر لڑکی کو ٹکر مار کر زبردستی راستہ روکا، تشدد سے لڑکی کے چہرے اور ناک پر زخم آئے، لیپ ٹاپ اور بیگ کو بھی نقصان پہنچا، موبائل اور لیپ ٹاپ چھیننے کی بھی کوشش کی گئی

لاہور(قدرت روزنامہ)صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے مزنگ میں سکوٹی پر سفر کرنے والی لڑکی کے ساتھ سرِراہ غنڈہ گردی، بدترین تشدد اور ہراسانی کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ملزم نے نا صرف لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کا قیمتی سامان چھیننے کی بھی کوشش کی، واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ لاہور کے مصروف ترین علاقے مزنگ لنک روڈ پر پیش آیا جہاں متاثرہ لڑکی اپنی سکوٹی پر سوار ہو کر جا رہی تھی کہ ملزم غلام مصطفیٰ نے موٹر سائیکل پر تعاقب کرتے ہوئے اس کی سکوٹی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری اور زبردستی اس کا راستہ روک لیا، سرِراہ ہونے والی اس غنڈہ گردی پر بس اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ملزم نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکی کو موٹر سائیکل سے نیچے گرا دیا اور اس پر بہیمانہ تشدد کیا۔
لاہور/ مزنگ/ سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کا ملزم گرفتار۔لاہور پولیس کے مطابق ملزم غلام مصطفی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے,ملزم چنیوٹ کا رہائشی بتایا جاتا ہے https://t.co/rHwnNLcPLw
— Saqlain Zafar (@SaqlainZafar13) October 23, 2026
بتایا گیا ہے کہ ملزم نے لڑکی کو تھپڑ مارے، اس کے بال نوچے اور اسے جسمانی و ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا، اس وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں متاثرہ لڑکی کے چہرے اور ناک پر زخم آئے ہیں، اس دوران ملزم نے لڑکی کا لیپ ٹاپ اور بیگ بھی زمین پر پھینک کر نقصان پہنچایا اور مبینہ طور پر اس کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ زبردستی چھیننے کی بھی کوشش کی، دن دہاڑے پیش آنے والے اس واقعے نے راہگیروں اور شہریوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
معلوم ہوا ہے کہ واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم غلام مصطفیٰ کو گرفتار کرلیا، اس واقعے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں متعلقہ تھانہ مزنگ میں درج کر لیا گیا ہے، گرفتار ملزم غلام مصطفیٰ کا تعلق ضلع چنیوٹ سے ہے، پولیس اس سے مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اس سے پہلے بھی اس طرح کی حرکات میں ملوث رہا ہے یا نہیں۔
واقعے پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کامران فیصل نے واضح کیا ہے کہ سرِراہ خواتین کا راستہ روکنا، انہیں ہراساں کرنا اور ان پر ہاتھ اٹھانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، خواتین کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں ملوث عناصر سے قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
