اقوام متحدہ کی سربراہی کی دوڑ میں اماراتی سفارت کار شامل، پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بننے کا امکان
صدرشیخ محمد بن زاید نے لانا نسیبہ کی نامزدگی باضابطہ طور پر پیش کر دی،عالمی ادارے کی قیادت کے لیے سفارتی مقابلہ تیز

ابوظہبی/نیویارک(قدرت روزنامہ)متحدہ عرب امارات نے اپنی سینئر سفارت کار لانا زکی نسیبہ کو اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے باضابطہ نامزد کر دیا ہے ان کی نامزدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ادارے کی قیادت کی تبدیلی کے لیے سفارتی مشاورت جاری ہے اور رکن ممالک نئے سربراہ کے انتخاب کی تیاری کر رہے ہیں.
اماراتی خبر رساں ادارے” وام“ کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے لانا نسیبہ کی نامزدگی کا خط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو ارسال کیا ہے اماراتی حکومت نے ان کے طویل سفارتی تجربے اور عالمی امور پر مہارت کو نامزدگی کی بنیاد قرار دیا ہے لانا نسیبہ اس وقت متحدہ عرب امارات کی وزیرمملکت برائے امورِ خارجہ ہیں وہ اس سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل نمائندہ بھی رہ چکی ہیں، جہاں انہوں نے عالمی امن، سلامتی، انسانی امداد اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق معاملات پر کام کیا.
اقوام متحدہ میں اہم سفارتی ذمہ داریاں
لانا نسیبہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل نمائندہ رہیں اس عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات سلامتی کونسل کا رکن بھی رہا، جہاں انہوں نے اہم بین الاقوامی معاملات پر سفارتی مذاکرات میں حصہ لیا وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکی ہیں ان کے سفارتی تجربے میں انسانی امداد، تنازعات کے حل، خواتین کے حقوق اور عالمی ترقی سے متعلق امور شامل ہیں ان کی نامزدگی کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے عالمی سفارت کاری میں اپنا کردار مزید نمایاں کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے.
پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بننے کا امکان
اگر لانا نسیبہ اس عہدے کے لیے منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکرٹری جنرل ہوں گی تاہم ان کی نامزدگی کے بعد انتخابی عمل میں دیگر امیدواروں کے ساتھ سفارتی حمایت حاصل کرنا بھی اہم ہوگا اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری اور آخری مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی کرتی ہے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس، انتخاب میں اہم حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ کسی مستقل رکن کی مخالفت یا ویٹو امیدوار کی نامزدگی روک سکتا ہے.
عالمی بحران نئے سربراہ کے لیے بڑا چیلنج
اقوام متحدہ کے نئے سربراہ کو دنیا بھر میں جاری تنازعات، انسانی بحرانوں، عالمی طاقتوں کے اختلافات اور بین الاقوامی تعاون میں درپیش مشکلات جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا لانا نسیبہ کی نامزدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی موثریت، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور جنگوں کے خاتمے کے لیے عالمی ادارے کے کردار پر بحث جاری ہے تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ انہیں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور دیگر رکن ممالک کی کتنی حمایت حاصل ہوگی ان کی کامیابی کا انحصار آئندہ سفارتی مشاورت اور انتخابی عمل میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر ہوگا.
