نیشنل ایکشن پلان کے مطابق اب خیبرپختونخواہ میں مدارس کو ریگولیٹ کیا جائے گا، ثمر ہارون بلور

مدارس پر چیک رکھنا پڑے گا کہ وہاں سکھایا پڑھایا کیا جارہا ہے اور کیا نصاب ہے؟ مدارس میں جو لوگ ہیں ان کے پیچھے لنکس کو بھی دیکھا جائے گا، مشیر اطلاعات کے پی ثمرہارون بلور


پشاور(قدرت روزنامہ) مشیر اطلاعات کے پی ثمرہارون بلور کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق اب خیبرپختونخواہ میں مدارس کو ریگولیٹ کیا جائے گا، مدارس پرچیک رکھنا پڑے گا کہ وہاں سکھایا پڑھایاکیا جارہا ہے اور کیا نصاب ہے؟ سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں مدارس کو ریگولرائز کرنے کی ایک شق تھی، ایپکس کمیٹی اجلاس میں اس پر بھی تفصیلی بات ہوئی، وفاقی حکومت اس شق کے بارے میں خیبرپختونخواہ کو لکھ چکا ہے اور میٹنگز میں براہ راست بتا بھی چکا ہے، اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سسٹم سے ایسے لوگ نکل رہے ہیں جو روزگار کے قابل نہیں ہیں، ان مدارس کو ریگولیٹ کیا جائے گا، کے پی میں جس سکول کی چھت گری اس سکول میں دو بجے کے بعد مدرسہ چلایا جاتا تھا۔
ہمیں چیک رکھنا پڑے گا کہ ان میں سکھایا کیا جارہا ہے؟ کیا نصاب ہے، کیا پڑھایا جارہا ہے؟جو مدارس میں لوگ ہیں ان کے پیچھے کن کے ساتھ لنکس ہیں؟ایک طبقہ ناراض نہ ہو اسلئے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا، لیکن پورا خیبرپختونخواہ آگ میں جل جائے، یہ نہیں ہوسکتا۔ اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔


مزید برآں وفاقی مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں ایپکس کمیٹی اجلاس میں عسکری قیادت نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن اور موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی اور آپریشن کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔
عسکری قیادت نے اس عزم کا اظہارکیا کہ دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے مہینوں یا سالوں کی بات نہیں کررہے بلکہ چار مہینوں میں دہشتگردوں کو صفایا کردیا جائے گا، دہشتگردوں کی تشکیلیں ہوتی ہیں، ایک تشکیل میں 3لوگ یا زیادہ سے زیادہ 15تک شامل ہوسکتے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخواہ کے 12متاثرہ اضلاع میں 201 دہشتگرد تشکیلیں موجود ہیں، یہ تشکیلیں کسی گروپ کی صورت نہیں بلکہ آبادی کے اندر موجود ہیں، اب وہاں دہشتگردوں کو ختم کرنے کی دقت جوپیش آرہی ہے، ہمارے سکیورٹی ایجنسیز وہاں کے عوام کو کہتے آرہے ہیں کہ آپ خود ان دہشتگردوں کو آبادیوں سے نکال دیں، یا پھر ہمیں موقع دیں اور آپ آبادی سے باہر آجائیں ہم آپریشن کرکے نکال لیتے ہیں،اگر دونوں چیزیں منظور نہیں تو پھر ان دہشتگردوں کو اس طرح یہاں پلنے نہیں دیا جاسکتا ۔
جب لوگ سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرتے تھے تو سہیل آفریدی کی حکومت لوگوں کو اکساتے تھے کہ یہ کام نہیں کرنا۔

WhatsApp
Get Alert