فوری انصاف کے تماشوں پر تالیاں بجانے والوں سے میرا سوال!
کسی مہذب معاشرے میں پولیس کو تفتیش، فیصلہ اور سزا، تینوں کا اختیار دیا جاتا ہے؟ سی سی ڈی کی کارروائیوں میں کتنے لوگ مارے گئے؟ پٹرول پمپ پر تشدد کے ملزم کو کارکن سے پٹوانا کون سا انصاف ہے؟ شیر افضل خان مروت کا سوال

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)رکن اسمبلی ، ماہر قانون شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ فوری انصاف کے تماشوں پر تالیاں بجانے والوں سے میرا سوال! کسی مہذب معاشرے میں پولیس کو تفتیش، فیصلہ اور سزا، تینوں کا اختیار دیا جاتا ہے؟ ایکس پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ ’’فوری انصاف‘‘ کے تماشوں پر تالیاں بجانے والوں سے میرا سوال ہے: کسی مہذب معاشرے میں پولیس کو تفتیش، فیصلہ اور سزا، تینوں کا اختیار دیا جاتا ہے؟
شیرافضل مروت نے کہا کہ سی سی ڈی کی کارروائیوں میں کتنے لوگ مارے گئے؟ کتنے واقعات کی آزادانہ تحقیقات ہوئیں؟ کس عدالت نے طے کیا کہ ہر مرنے والا مجرم اور سزائے موت کا مستحق تھا؟ پولیس کا الزام، عدالتی فیصلے کا متبادل کب سے بن گیا؟
پٹرول پمپ کی جن ویڈیوز کا ذکر ہے، اگر واقعات اسی ترتیب سے پیش آئے ہیں تو پہلے کارکن کو مارنے والا شخص قابلِ گرفت ہے، لیکن پولیس کی موجودگی میں اُسی کارکن سے اُسے پٹوانا کون سا انصاف ہے؟ کیمرے کے سامنے بدلہ دلوانا قانون کی حکمرانی نہیں، ریاستی اختیار کا تماشا بنانا ہے۔
پہلے تشدد کا جواب مقدمہ اور قانونی کارروائی ہے، دوسرا تشدد نہیں۔
’’فوری انصاف‘‘ کے تماشوں پر تالیاں بجانے والوں سے میرا سوال ہے: کسی مہذب معاشرے میں پولیس کو تفتیش، فیصلہ اور سزا، تینوں کا اختیار دیا جاتا ہے؟
سی سی ڈی کی کارروائیوں میں کتنے لوگ مارے گئے؟ کتنے واقعات کی آزادانہ تحقیقات ہوئیں؟ کس عدالت نے طے کیا کہ ہر مرنے والا مجرم اور سزائے موت کا مستحق تھا؟ پولیس کا الزام، عدالتی فیصلے کا متبادل کب سے بن گیا؟
پٹرول پمپ کی جن ویڈیوز کا ذکر ہے، اگر واقعات اسی ترتیب سے پیش آئے ہیں تو پہلے کارکن کو مارنے والا شخص قابلِ گرفت ہے، لیکن پولیس کی موجودگی میں اُسی کارکن سے اُسے پٹوانا کون سا انصاف ہے؟ کیمرے کے سامنے بدلہ دلوانا قانون کی حکمرانی نہیں، ریاستی اختیار کا تماشا بنانا ہے۔ پہلے تشدد کا جواب مقدمہ اور قانونی کارروائی ہے، دوسرا تشدد نہیں۔
آئین کا آرٹیکل ۹ جان اور آزادی، آرٹیکل ۱۰؍اے منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار، اور آرٹیکل ۱۴ انسانی وقار کا تحفظ دیتا ہے۔ یہ حقوق پولیس کی پسند یا عوام کی تالیوں کے محتاج نہیں۔
عدالتوں کی سستی کا علاج عدالتوں کی اصلاح ہے؛ تھانوں کو عدالتیں اور پولیس اہلکاروں کو جلاد بنا دینا نہیں۔ ہر مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔
’’انصاف کی پہچان سزا کی رفتار نہیں، فیصلے تک پہنچنے کے طریقے کی دیانت ہے۔‘‘
آج جس بے لگام اختیار پر آپ تالیاں بجا رہے ہیں، کل اُس کے سامنے آپ کا اپنا حقِ سماعت بھی بے معنی ہو سکتا ہے۔
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) October 23, 2026
آئین کا آرٹیکل 9 جان اور آزادی، آرٹیکل 10 اے منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار، اور آرٹیکل ۱۴ انسانی وقار کا تحفظ دیتا ہے۔ یہ حقوق پولیس کی پسند یا عوام کی تالیوں کے محتاج نہیں۔
عدالتوں کی سستی کا علاج عدالتوں کی اصلاح ہے؛ تھانوں کو عدالتیں اور پولیس اہلکاروں کو جلاد بنا دینا نہیں۔
ہر مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔
’’انصاف کی پہچان سزا کی رفتار نہیں، فیصلے تک پہنچنے کے طریقے کی دیانت ہے۔‘‘ آج جس بے لگام اختیار پر آپ تالیاں بجا رہے ہیں، کل اُس کے سامنے آپ کا اپنا حقِ سماعت بھی بے معنی ہو سکتا ہے۔
