امریکی ملٹری بیسز پر پراسرار طیاروں کی 1800 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پروازیں

گزشتہ ایک سال کے دوران حساس فوجی اڈوں کے اوپر کم از کم تین مرتبہ سیاہ رنگ کی تکون نما اشیا دیکھی گئیں‘خفیہ دستاویزات میں انکشاف


واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکا میں حساس فوجی اڈوں کے اوپر پراسرار سیاہ تکون نما اجسام دیکھے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر 1800 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر رہے تھے۔ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی نئی دستاویزات میں گزشتہ ایک سال کے دوران ایسے کم از کم تین واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔حال ہی میں منظر عام پر لائی گئی خفیہ دستاویزات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران حساس فوجی اڈوں کے اوپر کم از کم تین مرتبہ سیاہ رنگ کی تکون نما اشیا دیکھی گئیں، جن کی رفتار تقریبا 1800 میل فی گھنٹہ 2897 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتائی گئی ہے۔ ان اجسام کی اصل شناخت تاحال معلوم نہیں ہوسکی، جبکہ ان کی موجودگی نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ تفصیلات حکومتی دستاویزات کے تازہ مجموعے میں شامل ہیں۔ یہ ریکارڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے نامعلوم اور غیر معمولی فضائی مظاہر سے متعلق معلومات عام کرنے کی کوششوں کے تحت جاری کیے گئے۔ تاہم، سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان واقعات کی درست تاریخیں اور مقامات دستاویزات میں ظاہر نہیں کیے گئے۔رپورٹس کے مطابق یہ اجسام ایک ایسے پہاڑی علاقے کے اوپر دیکھے گئے جہاں امریکی حکومت جدید ٹیکنالوجی کی آزمائش کرتی ہے۔ دستاویزات کے ساتھ جاری کیے گئے خاکوں میں سیاہ تکون نما اشیا دکھائی گئی ہیں، تاہم ان واقعات کی کوئی اصل تصویر عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔مشاہدہ کرنے والوں کے اندازوں کے مطابق اس شے کے پروں کا پھیلا 9 سے 15 فٹ، گہرائی 6 سے 9 فٹ اور موٹائی ایک سے دو فٹ کے درمیان تھی۔رپورٹ میں ان اجسام کی ایک اور غیر معمولی خصوصیت کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ ان سے کوئی آواز سنائی نہیں دی اور نہ ہی ان کے پیچھے گیس یا دھوئیں کے اخراج کے آثار دکھائی دیے۔ان واقعات پر تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اجسام ایسے حساس فوجی علاقوں کے اوپر دیکھے گئے جہاں امریکا جدید ٹیکنالوجی کی آزمائش کرتا ہے۔ ایسے مقامات پر کسی نامعلوم فضائی شے کی موجودگی اس کی شناخت کے ساتھ ساتھ ممکنہ نگرانی اور سکیورٹی سے متعلق سوالات بھی پیدا کرتی ہے۔نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے ان اجسام کے امریکی ٹیکنالوجی ہونے کے امکان کو مسترد کردیا۔ تاہم، دستیاب دستاویزات میں ان کی اصل کے بارے میں کوئی حتمی وضاحت موجود نہیں۔

WhatsApp
Get Alert