شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بک میں ہیں، منصور علی خان
نواز شریف اور مریم نواز کے لیے صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی، مریم نواز کے جہاز کی خریداری کو کچھ اچھا نہیں سمجھا جا رہا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے وضاحت بھی دی لیکن معاملہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، اینکر پرسن کی منیب فاروق کے ساتھ گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)اینکر پرسن اور تجزیہ کار منصور علی خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے لیے موجودہ سیاسی صورتحال نسبتاً بہتر ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے روابط اور رابطہ کاری بھی اچھی چل رہی ہے، تاہم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے حالات پہلے جیسے سازگار دکھائی نہیں دے رہے۔ منیب فاروق کے ساتھ ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے منصور علی خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اب بھی اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بک میں ہیں اور ان کے ساتھ رابطوں کا معاملہ بھی بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
اس کے برعکس نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے صورتحال میں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ اگر ایک سال پہلے کے حالات سے موجودہ صورتحال کا موازنہ کیا جائے تو اب کئی معاملات پہلے جیسے نہیں رہے۔
منصور علی خان نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے مریم نواز کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مریم نواز کے طیارے سے متعلق واقعے کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب معاملات مجموعی طور پر ٹھیک چل رہے ہوں تو بلاوجہ کوئی نیا تنازع کھڑا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مریم نواز کے طیارے سے متعلق واقعہ ایسا معاملہ تھا جسے غیر ضروری طور پر توجہ کا مرکز بنایا گیا اور اس سے سیاسی طور پر فائدہ ہونے کے بجائے نقصان پہنچنے کا امکان پیدا ہوا۔
شہباز شریف کیساتھ One Page والی پالیسی بہت اچھی چل رہی ہے لیکن نواز شریف اور مریم نواز کیساتھ حالات اتنے اچھے نہیں ہے جو ایک سال پہلے تھے۔ منصور علی خان
@_Mansoor_Ali @muneebfaruqpak #PMLN https://t.co/R3QSFoGzcB— Ali Hassan (@AliJrnlst) October 23, 2026
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ مریم نواز کی جانب سے اس معاملے پر وضاحت بھی پیش کی گئی، تاہم ان کے خیال میں اس واقعے سے متعلق ابھی کئی پہلو زیر بحث ہیں اور معاملہ مکمل طور پر ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
منصور علی خان نے لاہور سے متعلق بعض دیگر معاملات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے واقعات بھی موجود ہیں جنہیں مریم نواز کے لیے زیادہ مثبت نہیں سمجھا جا رہا۔ تاہم ان معاملات کی مزید تفصیلات بیان کیے بغیر انہوں نے مجموعی سیاسی صورتحال میں فرق کی نشاندہی کی۔ ان کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات نسبتاً بہتر دکھائی دیتے ہیں، جبکہ نواز شریف اور مریم نواز کے لیے موجودہ حالات ایک سال پہلے کے مقابلے میں کم سازگار ہیں۔
