خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے نتیجے میں 68 ایم پی ایز نے پارٹی سے بغاوت کردی

صوبائی ارکان نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر اور قائد ایوان بھی ہم خود چُنیں گے، وفاقی حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کیلئے علی امین گنڈاپور کو نامزد کردیا، شیر افضل خان مروت کا دعویٰ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے نتیجے میں91 ارکان اسمبلی میں سے 68 ایم پی ایز نے پارٹی سے بغاوت کردی ، ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی لیڈر اور قائد ایوان بھی ہم خود چُنیں گے۔ سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے نتیجے میں 68 ایم پی ایز نے پارٹی سے بغاوت کردی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی لیڈر بھی ہم چنیں گے اور قائد ایوان بھی ہم چنیں گے۔

وفاقی حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے ہیں تو ہم کریں گے، کیونکہ مسائل کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے، گورنر راج ہمارے صوبے میں لگوا دیا، ہمارا کوئی نمائندہ نہیں ہوتا، وفاقی حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کیلئے انہوں نے علی امین گنڈاپور کو نامزد کیا ہے، 68 ایم پی ایز نے اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے علی امین گنڈاپور کو اپنا نمائندہ نامزد کیا ہے۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ایک گرے گا تو دوسرا اٹھے گا، لیکن جنھوں نے اٹھنا تھا وہ سب عمرے پر گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کا تو پتہ نہیں لیکن شفیع جان پلان ’بی‘ ڈھونڈ رہا ہے جو اس سے گر گیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک گرے گا تو دوسرا اٹھے گا، لیکن جنھوں نے اٹھنا تھا اب بتایا گیا ہے کہ وہ سب عمرے پر گئے ہوئے ہیں۔

اسی طرح شیر افضل خان مروت نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں 25سالوں میں جو اختلافات ہیں کبھی ختم نہیں ہوئے، عمران خان بھی باہر آکر پی ٹی آئی کو متحد نہیں کرسکتے، بیرسٹر گوہر کے بیانات کہ ہم کھڑے ہیں ، وہ بس کھڑے ہی ہیں، لیکن باقی پارٹی کا اسٹرکچر ، تنظیم آج سے نہیں ،پی ٹی آئی میں 25سالوں میں جو اختلافات ہیں کبھی ختم نہیں ہوئے۔ اب اختلافات پارٹی میں عداوتیں بن چکی ہیں، اس عداوتوں کو عمران خان بھی ختم نہیں کرسکتے۔

WhatsApp
Get Alert