آج آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند کرنے پر سب سے زیادہ مزاحمت نام نہاد سرکاری ٹاؤٹ صحافیوں کی طرف سے پیش آتی ہے

سرکاری ٹاؤٹ جن کو ایک ٹویٹ کے 5 ، 6 لاکھ روپے ملتے ہیں، یہ آپ کو بڑا کنفرم ریٹ بتا رہا ہوں، ان میں سے خود ایک بندے نے پبلک سٹیٹمنٹ دی کہ مجھے کہا گیا کہ فلاں پارٹی کیخلاف ایک ٹویٹ کے آپ کو 5 لاکھ روپے دینگے، سینئر صحافی حامد میر


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ایک صحافی جب آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند کرتا ہے تو اس کو مزاحمت نام نہاد سرکاری ٹاؤٹ صحافیوں کی طرف سے پیش آتی ہے، سرکاری ٹاؤٹ جن کو ایک ٹویٹ کے 5 ، 6 لاکھ روپے ملتے ہیں، یہ آپ کو بڑا کنفرم ریٹ بتا رہا ہوں۔ انہوں نے ایک تقریب ’ میڈیا انڈر دی شیڈو آف دی ڈیتھ ‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستانی میڈیا کی وہی حالت ہے جو پی ٹی آئی کی ہے ۔
۔ پی ٹی آئی والے بھی آپس میں لڑے جارہے ہیں اور میڈیا والے بھی آپس میں لڑے جارہے ہیں، پی ٹی آئی کو بھی اپنا خیال نہیں ہے اور میڈیا کو بھی اپنا خیال نہیں ہے۔

ایک صحافی جب آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند کرتا ہے یا جب کسی صحافی کیساتھ زیادتی ہو جائے تو اس پر کوئی بیان دیتا ہے تو اسکو سب سے زیادہ مزاحمت کچھ ایسے سو کالڈ صحافیوں کی طرف سے پیش آتی ہے جو سرکاری ٹاؤٹ ہیں ۔
۔جن کو ایک ٹوئیٹ کے 5 ، 6 لاکھ ملتے ہیں، یہ آپکو بڑا کنفرم ریٹ بتا رہا ہوں۔
ان میں سے خود ایک بندے نے پبلک سٹیٹمنٹ دی ہے کہ مجھے کہا گیا کہ اگر آپ فلاں پارٹی کے خلاف ایک ٹوئیٹ کریں گے تو آپ کو 5 لاکھ روپے دینگے، اندازہ کریں ہم صحافت پر خود کمپرومائزڈ کر لیتے ہیں۔
حامد میر نے کہا کہ آج کل کے حالات مشرف کے دور کے حالات سے زیادہ خطرناک اور سنگین ہیں، ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ میرا کالم جنگ اخبار میں چھپا ” ڈبل بیرل خان ” ، اخبار میں چھپ گیا لیکن دوپہر کو کسی نے فون کر کے مجھے بتایا کہ وہ جنگ کی ویب سائٹ سے کسی نے ہٹا دیا ہے۔
اب پتا کر رہا ہوں کہ کیسے ہٹا ہے کوئی نہیں بتا رہا ۔۔بڑی تگو دوہ کی۔ پتا کیا ۔ آخرکار پتا چلا کہ “آپ کیا چاہتے ہیں ؟ کہ ادارہ بند ہو جائے آپکے سارے ساتھی بے روزگار ہو جائیں۔
حالات وہی ہیں لیکن 2011 میں ہمیں پتا تھا کہ کون کر رہا ہے ۔ 2007 میں بھی ہمیں پتا تھا کون کر رہا ہے، اب جو لوگ ہیں کہ بہت بزدل ہیں ، مکار ہیں ۔ خود سامنے نہیں آتے۔
یہ سویلین حکومت کو آگے لگایا ہوا ہے اور وہ جب ہمیں ملتے ہیں تو ہاتھ جوڑتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہم نہیں ہیں۔

اس لیے ماضی کا ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف اس کو میں سمجھتا ہوں کہ وہ بہتر تھا، اس میں اتنی اخلاقی جرات تو تھی کہ وہ سامنے آکر کہتا تھا کہ حامد میر تم نے یہ کام غلط کیا ہے، تم پر بین، تم پر پابندی، ختم۔
یہ تو سامنے ہی نہیں آتے، ایک ادارہ کہتا ہے کہ ہم نے نہیں کیا، دوسرا کہتا ہے کہ نہیں ہم اس میں ملوث نہیں ہیں۔
حامد میر نے کہا کہ 3، 4 سال سے میرا شو لائیو نہیں ہوتا۔ کیونکہ کبھی کبھی میں بھی آپ لوگوں کی طرح کوئی بات کہہ دیتا ہوں تو وہ کاٹ دیتے ہیں، تو کمپرومائزڈ قسم کی صحافت ہم کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں کچھ ایسے واقعات ہوئے تو میں نے ان کو کہہ دیا کہ گرفتار کرنا ہے تو گرفتار کرو کیا تم نے روز روز کی ٹر ٹر لگائی ہوتی ہے۔ 2-3 دن بعد ایک سینئر منسٹر ہیں ۔۔انھوں نے کہا کہ آپ نے خود ہی فرمائش کر دی ہے تو فکر نہ کریں آپکو زیادہ تکلیف نہیں ہوگی جیل میں۔ تو میں نے پوچھا وہ کیوں؟ تو انھوں نے کہا کہ اب جیل اسلام آباد آگئی ہے ۔۔ہم نے نئی جیل بنا لی ہے۔

WhatsApp
Get Alert