پاکستان کی خارجہ پالیسی تباہی کی طرف گامزن ہے، پڑوسیوں کا اعتماد ختم ہو چکا، زلفی بخاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء اور سابق وفاقی معاونِ خصوصی سید زلفی بخاری نے موجودہ وفاقی حکومت کی عالمی و علاقائی سفارتی پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تیزی سے ایک بڑے بحران اور تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات ملک کے مجموعی و معاشی مستقبل پر خطرناک حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی رہنماء سید زلفی بخاری نے موجودہ سفارتی تنہائی پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ایک ایسے جغرافیائی اور علاقائی ماحول میں سانس لے رہا ہے جہاں ہمارا کوئی بھی ہمسایہ ملک ہم پر بھروسہ یا اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
Pakistan’s foreign policy is heading towards disaster. We now live in a neighbourhood where none of our neighbours trust us. As Afghanistan and India deepen ties with an anti-Pakistan agenda, we have failed to safeguard Chinese investments while undermining relations with Iran at others’ behest. Soon, even the US and the GCC will see through our empty promises, photo ops and endless overcommitments.
— Sayed Z Bukhari (@sayedzbukhari) October 25, 2026
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور غیر متوازن سفارت کاری کے باعث ملک کو بین الاقوامی سطح پر سخت تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ایک طرف افغانستان اور بھارت جیسے ممالک پاکستان مخالف ایجنڈے پر تیزی سے پیش رفت کرتے ہوئے اپنے باہمی تعلقات اور شراکت داری کو مزید گہرا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہم اپنے سب سے قابلِ اعتماد دوست ملک چین کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور منصوبوں کا تحفظ کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمرانوں نے بیرونی اشاروں اور دوسروں کی ایماء پر برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ بھی اپنے تاریخی اور اہم تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے، کھوکھلے دعوؤں، محض فوٹو سیشنز اور بے بنیاد وعدوں کے ذریعے ملک کی سفارت کاری نہیں چلائی جا سکتی، بہت جلد امریکہ اور خلیجی تعاون کونسل یعنی جی سی سی کے ممالک بھی ان کھوکھلے وعدوں اور نعروں کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ جائیں گے کیونکہ زبانی جمع خرچ سے حقیقی اور پائیدار سفارتی تعلقات استوار نہیں کیے جا سکتے۔
