گندم اور آٹے کے بحران پر صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت،محکمہ خوراک کے پاس نہ فنڈز ہیں نہ کوئی پلان ہے : فلور ملز ایسوسی ایشن بلوچستان
دیگر صوبے انتظامات کر چکے جبکہ بلوچستان میں حکومتی بے حسی عروج پر ہے: عبدالواحد بڑیچ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالواحد بڑیچ نے صوبے میں آٹے اور گندم کے سنگین بحران پر حکومت کی غفلت اور عدم توجہی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں آٹا سستا اور عام آدمی کی پہنچ میں لانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن صوبائی حکومت اس معاملے میں بالکل سنجیدہ نظر نہیں آرہی،?جس کے باعث غریب عوام سستے آٹے کی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دیگر صوبوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام دوسرے صوبے اپنی سطح پر گندم کا بہتر بندوبست کر رہے ہیں اور باہر سے گندم لا رہے ہیں، جب کہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جو نہ تو خود گندم خرید رہا ہے اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کا ریلیف فراہم کر رہا ہے۔?ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے درآمد شدہ (امپورٹڈ) گندم کی تقسیم میں بھی پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کو تو حصہ دیا گیا ہے، لیکن بلوچستان کو اس سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق صوبائی محکمہ خوراک کے پاس نہ تو گندم خریدنے کے لیے درکار فنڈز ہیں اور نہ ہی اس بحران سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس کوئی باقاعدہ پلان موجود ہے۔صوبائی حکومت محکمہ خوراک کو فنڈز اور اجازت فراہم نہیں کرتی اور گندم کے نرخ سستے نہیں ہوتے، داس وقت تک بحران کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ایسوسی ایشن نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر پاسکو اور دیگر ذرائع سے گندم کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ موجودہ مہنگائی کے دور میں بلوچستان کے غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
