عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کردی گئی
ڈپٹی کمشنر نے تینوں کی نظر بندی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ توسیع کی تجویز بھیجی تو حکومت نے تجویز منظور کرلی؛ سرکاری وکیل کی لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ

لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی تینوں بہنوں کی قانونی جنگ اور نظربندی کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ میں اہم سماعت منعقد ہوئی جہاں حکومت کی جانب سے ان کی حراست میں مزید توسیع کیے جانے کی رپورٹ پیش کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی بازیابی کے لیے دائر کردہ درخواست پر سماعت ہوئی، جس کی کارروائی جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے صاحبزادے شاہریز کی درخواست پر کی، سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر پیش ہوئے، جبکہ عدالت میں عظمیٰ خان کے شوہر احد خان اور علیمہ خان کے صاحبزادے بھی موجود تھے۔
سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صوبائی حکومت نے عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد اب یہ نظربندی 20 نومبر تک جاری رہے گی، وکیل نے بتایا کہ اس سے قبل تینوں بہنوں کی نظربندی میں 7 اکتوبر کو بھی توسیع کی گئی تھی، حکومت کی جانب سے ہوم سیکرٹری کی یہ رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد عدالت نے دائر درخواست کو اسی روشنی میں نمٹا دیا۔
کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں بہنوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نظربندی کا نوٹیفکیشن تو ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا ہے، مگر آپ نے اپنی درخواست میں ڈی سی کو فریق ہی نہیں بنایا، اور عدالت آپ کی درخواست کے دائرہ کار سے باہر جا کر کوئی آرڈر جاری نہیں کر سکتی، اس موقع پر وکیل رانا مدثر عمر نے مؤقف اپنایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس پورے معاملے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم آڑے آئیں گی۔
