خیبرپختونخواہ میں لاکھوں کے عوض درجنوں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی خدمات کا دعویٰ

ایک عام فیس بک پیج کو 6 لاکھ روپے ماہانہ آفر ہوئی تو بندہ حیران و پریشاں ہوگیا جبکہ سینکڑوں لوگ پہلے سے یہ کام کررہے ہیں؛ ڈان نیوز کے بیورو چیف علی اکبر کی ایکس پوسٹ


پشاور(قدرت روزنامہ)صوبہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظر نامے اور میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے ایک نیا انکشاف سامنے آگیا۔ ڈان نیوز کے بیورو چیف پشاور اور معروف صحافی علی اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد مبینہ طور پر لاکھوں روپے کے عوض درجنوں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور پیجز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب ایک عام فیس بک پیج کو ماہانہ 6 لاکھ روپے کی بھاری آفر کی گئی تو متعلقہ بندہ خود حیران و پریشاں رہ گیا، جب کہ اس نوعیت کے سینکڑوں افراد پہلے سے ہی سوشل میڈیا پر اس طرح کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔


صحافی کی جانب سے یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں سیاسی کشیدگی، حکومت کی تبدیلی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاق اور صوبائی سطح پر بیانیے کی جنگ عروج پر ہے، اس ضمن میں سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ایک صحافی جب آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند کرتا ہے تو اس کو مزاحمت نام نہاد سرکاری ٹاؤٹ صحافیوں کی طرف سے پیش آتی ہے، سرکاری ٹاؤٹ جن کو ایک ٹویٹ کے 5 ، 6 لاکھ روپے ملتے ہیں، یہ آپ کو بڑا کنفرم ریٹ بتا رہا ہوں۔
انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستانی میڈیا کی وہی حالت ہے جو پی ٹی آئی کی ہے، پی ٹی آئی والے بھی آپس میں لڑے جارہے ہیں اور میڈیا والے بھی آپس میں لڑے جارہے ہیں، پی ٹی آئی کو بھی اپنا خیال نہیں ہے اور میڈیا کو بھی اپنا خیال نہیں ہے، ایک صحافی جب آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند کرتا ہے یا جب کسی صحافی کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو اس پر کوئی بیان دیتا ہے تو اس کو سب سے زیادہ مزاحمت کچھ ایسے سو کالڈ صحافیوں کی طرف سے پیش آتی ہے جو سرکاری ٹاؤٹ ہیں، جن کو ایک ٹوئیٹ کے 5 ، 6 لاکھ ملتے ہیں۔
سینئر صحافی نے بتایا کہ ان میں سے خود ایک بندے نے پبلک سٹیٹمنٹ دی ہے کہ مجھے کہا گیا کہ اگر آپ فلاں پارٹی کے خلاف ایک ٹوئیٹ کریں گے تو آپ کو 5 لاکھ روپے دیں گے، اندازہ کریں ہم صحافت پر خود کمپرومائزڈ کر لیتے ہیں، آج کل کے حالات مشرف کے دور کے حالات سے زیادہ خطرناک اور سنگین ہیں۔


ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ میرا کالم جنگ اخبار میں چھپا “ڈبل بیرل خان”، اخبار میں چھپ گیا لیکن دوپہر کو کسی نے فون کرکے مجھے بتایا کہ وہ جنگ کی ویب سائٹ سے کسی نے ہٹا دیا ہے، اب پتا کر رہا ہوں کہ کیسے ہٹا ہے کوئی نہیں بتا رہا، بڑی تگو دوہ کی، پتا کیا، آخرکار پتا چلا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ کہ ادارہ بند ہو جائے آپ کے سارے ساتھی بے روزگار ہو جائیں۔

WhatsApp
Get Alert