تہران اجلاس، ایران اور مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) ایران اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے علاقائی تعاون مضبوط بنانے، امن و سلامتی کے فروغ اور باہمی روابط کو وسعت دینے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
تہران میں ہونے والے چار ملکی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفود نے ایرانی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات کا تسلسل انتہائی اہم ہے۔ چاروں ممالک نے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اجلاس کا بنیادی مقصد خطے میں تعاون، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی دورے کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات و سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کی کوششوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دوبارہ فوجی تصادم روکنے کے لیے مذاکرات کے راستے کھولنا ضروری ہے۔
یہ اجلاس اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد ایران اور معاہدے کے تین رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی مشترکہ رابطہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے اور یمن کے حوثی گروپ کی سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں نے تنازع کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
