ایف آئی اے کا سعد رضوی اور انس رضوی کی اپنی تحویل میں موجودگی سے انکار
لاہور ہائیکورٹ میں بازیابی کے کیس میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی، سماعت ملتوی

لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور ہائیکورٹ میں سربراہ تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) حافظ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی حافظ انس حسین رضوی کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالتِ عالیہ کے بار بار احکامات کے باوجود وزارتِ داخلہ اپنی جامع رپورٹ پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس جواد ظفر کی جانب سے تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ کی مبینہ گمشدگی اور بازیابی کے کیس کی سماعت کی گئی، سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے عدالت عالیہ کے سامنے اپنی رپورٹ جمع کروائی۔
لاہور ہائیکورٹ کے روبرو اپنی رپورٹ میں ایف آئی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں رہنماؤں کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس درج اور موجود ہے اور وہ ادارے کو قانونی طور پر مطلوب ہیں، تاہم ایف آئی اے نے واضح کیا کہ سعد رضوی اور انس رضوی ان کی کی تحویل میں موجود نہیں ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ: حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کے بازیابی کیس کی سماعت، وزارتِ داخلہ رپورٹ جمع کروانے میں ناکام
جسٹس جواد ظفر نے سربراہ تحریک لبیک پاکستان اور اُن کے بھائی کے بازیابی کیس کی سماعت کی
ایف آئی اے نے عدالت میں رپورٹ جمع کرواتے ہوئے دونوں قائدین کی اپنی تحویل میں موجودگی سے انکار کردیا
وزارتِ داخلہ کی جانب سے تاحال رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی
عدالت نے وزارتِ داخلہ کو رپورٹ جمع کروانے کی تاکید کرتے ہوئے سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی
— Umer Inam (@UmerInamPk) October 27, 2026
دوسری جانب وزارتِ داخلہ کی طرف سے عدالت کے احکامات کے باوجود رپورٹ جمع نہ کرائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا، عدالتِ عالیہ نے وزارتِ داخلہ کو دوبارہ باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے کہ دونوں رہنما اس وقت کہاں ہیں اور کس ادارے کی تحویل میں ہیں۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے وزارتِ داخلہ کو رپورٹ جمع کروانے کی تاکید کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی، گزشتہ سماعت پر بھی عدالت نے وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے سے متعلق رپورٹس طلب کی تھیں جب کہ تحریک لبیک پاکستان کے قائدین 378 روز سے لاپتہ اور مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔
