نواز شریف نے ایک لمبا عرصہ آئینی جدوجہد کی اور ریاست کیلئے ڈلیور بھی کیا، میاں جاوید لطیف

نوازشریف پوچھتے ہیں مجھے کیوں ہٹایا؟ تو ٹھٹھہ اڑایا جاتا ہے بار بار کیوں پوچھتے ہیں باز نہیں آتے، نوازشریف یہ پوچھتے ہیں کہ جنہوں نے دھرنا دلوایا، مجھے سزا دلوادی، انہیں کسی نے سزا دی؟ رہنماء ن لیگ کی گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ نواز شریف نے ایک لمبا عرصہ آئینی جدوجہد کی اور ریاست کیلئے ڈلیور بھی کیا، نواز شریف جب پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں ہٹایا؟ تو ٹھٹھہ اڑایا جاتا ہے کہ یہ بار بار کیوں پوچھتے ہیں باز نہیں آتے۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ہر مشکل گھڑی میں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہوں اور مرتے دم تک ان کا ساتھ نبھاؤں گا، نواز شریف کا میرے ساتھ ایک نظریاتی رشتہ ہے اور انہوں نے ہمیشہ ریاست کے لیے کام کیا ہے، نواز شریف جب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ انہیں 1993ء، 1999ء اور پھر 2017ء میں کیوں ہٹایا گیا، تو ان کا یہ سوال بالکل جائز ہے۔


جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ جب ملک میں موٹرویز کا جال بچھ رہا تھا، ایٹمی دھماکے کرکے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا جا رہا تھا اور 2013ء میں سی پیک کے ذریعے معیشت کو پٹری پر لا کر دہشتگردی و لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جا رہا تھا، تب بار بار منتخب حکومتوں کو گھر کیوں بھیجا گیا؟ 2024ء کے انتخابات کے بعد آج وزراء اور خود نجی حلقوں میں یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ کئی نشستوں پر نتائج بدلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج موجودہ حکومت و اپوزیشن کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیا جا رہا ہے، اگر پنجاب میں فارم 47 کے تحت نتائج کا رونا رویا جا رہا ہے تو کیا سندھ اور خیبر پختونخواہ میں حالات مختلف تھے؟ پارٹی کی طرف سے نواز شریف کو وطن واپس لانے کا بنیادی مقصد انہیں چوتھی بار ملک کا وزیراعظم بنانا تھا، لیکن ان کی راہ میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
ملک میں جمہوریت کی حالتِ زار پر بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں آئین، قانون اور جمہوریت کی روایات کو بار بار پاؤں تلے روندا گیا، اس صورتحال میں اکیلے اسٹیبلشمنٹ یا صرف سیاست دانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ دونوں اطراف سے کمزوریاں رہی ہیں، کیا کبھی کسی مارشل لا لگانے والے ڈکٹیٹر، آئین توڑنے والے جرنیل یا غلط فیصلے صادر کرنے والے کسی جج کو اس کے جرائم کی کوئی سزا ملی؟ وزیراعظم کو ہمیشہ ایک آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert