معاشرے میں فوری انصاف کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب نہیں دینی چاہیئے، عاصمہ شیرازی


لاہور (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ معاشرے میں فوری انصاف کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب نہیں دینی چاہیئے، فوری تھپڑوں یا مبینہ جعلی مقابلے، انصاف قانون اور عدالتوں کے فیصلوں پر ہی قائم ہونا چائیے۔ ایکس پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے خطاب پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ معاشرے میں فوری انصاف کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب نہیں دینا چاہیئے۔
فوری تپھڑہون یا مبینہ جعلی مقابلے۔
انصاف قانون اور عدالتوں کے فیصلوں پر ہی قائم ہونا چائیے۔
بطور وزیر اعلی آپ کو قانون پر عملدرآمد یقینی بنانا چائیے نہ کہ ہاتھ جوڑنا۔

اس سے قبل سینئر صحافی شہزاد اقبال کا بھی جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے، لیکن بہت سارے ثبوت موجود ہیں کہ یہ مبینہ جعلی پولیس مقابلے اور ماورائے عدالت قتل ہے۔
حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کردیا کہ حکومت نے انصاف فراہم کردیا، اس کا مطلب کہ وہ آنر شپ لے رہی ہے، جب سے سی سی ڈی بنی ہے مریم نواز کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں ان کی تعریف کرتی ہیں، ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے ان پر تنقید کررہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے لیکن مریم نواز پھر بھی کہتی ہیں کہ ہم نے کرائم کو ختم کردیا ہے۔
پھر تمام پولیس مقابلوں کی کہانی ایک ہوتی ہے کہ ملزم کے ساتھی چھڑوانے آئے ، پولیس مقابلہ ہوا اور ساتھیوں کی فائرنگ سے ملزم ہلاک ہوگیا۔ جب سی سی ڈی کو بنایا گیا تویہ تھا کہ ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ ملزمان کیلئے ہوگا۔ لیکن عام لوگ جو غصے میں کرائم کرتے ہیں ، ان سے متعلق یہ پالیسی ؟ ان کے پاس تو کوئی اثرورسوخ یا کوئی لوگ بھی نہیں ہوتے جو ان کو بچا سکیں۔
اگر سی سی ڈی کارروائیوں کو عام لوگوں پر اپلائی کرنا ہے تو پھر قانون اور عدالتوں کا کیا فائدہ ؟ جسٹس سسٹم کو بہتر کس نے کرنا ہے؟
اسی طرح سابق آئی جی پولیس احسان غنی نے اینکر شہزاد اقبال کے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیوں سسٹم کو ٹھیک نہیں کیا جاتا؟ کون روکتا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم کو ٹھیک نہیں کریں۔ ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات سے کبھی جرائم کو ختم نہیں کیا جاسکتا، ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات سے جرائم کے خاتمے کا سوچنا صرف وہم ہوسکتا ہے۔
یہ سوچ ہے کہ ماورائے عدالت قتل سے کرائم ختم ہوجائے گا، کیونکہ یہ ایک شارٹ طریقہ ہے، اس طرح کے اقدامات سے آپ کرائم ڈیٹا کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، جب آپ ڈیٹا کو دبائیں گے تو کرائم کا ڈیٹا فالٹی ہوں۔

WhatsApp
Get Alert