سرکاری گندم کے گودام ڈی سیل ہونے پر ایف آئی آر کیوں نہ ہوئی؟ محکمہ خوراک کی مبینہ ملی بھگت اور نااہلی پر بلوچستان ہائی کورٹ برہم
سیکرٹری اور ڈی جی خوراک ذاتی حیثیت میں طلب، ذخائر، گوداموں اور خرد برد کی تفصیلات طلب، صوبے میں غذائی بحران کے دوران حکومتی غفلت کا سخت نوٹس

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان ہائی کورٹ نے سرکاری گندم کے ذخیرے، گوداموں کی تحویل اور انتظامی امور سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران محکمہ خوراک کے سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور جامع رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کردی۔27 اکتوبر 2026 کو جسٹس جناب اقبال احمد کاسی اور جسٹس جناب میاں محمد رف عطا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سرکاری گندم کے ایک گودام کو مبینہ طور پر ڈی سیل کرکے اس میں موجود ذخیرہ قبضے میں لینے کے معاملے پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا اور ڈائریکٹر محکمہ خوراک کی وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مبینہ واقعے سے متعلق ایف آئی آر درج نہ ہونے کی وجوہات اور تفصیلات طلب کرلیں۔عدالت نے بلوچستان بھر کے سرکاری گندم کے گوداموں میں موجودہ ذخیرے کی مقدار اور محل وقوع سے متعلق مصدقہ تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ گوداموں کی تحویل، نگرانی اور حفاظت کے ذمہ دار افسران کے نام اور عہدے بھی طلب کیے گئے۔دو رکنی بینچ نے محکمہ خوراک سے گندم کی خریداری، ذخیرہ کرنے، فروخت اور تقسیم کے طریقہ کار، قیمتوں کے تعین اور اس حوالے سے نافذ قانونی قواعد کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ عدالت نے مبینہ واقعے سے متعلق معائنہ رپورٹس، اسٹاک رجسٹرز، سرکاری خط و کتابت اور محکمانہ کارروائی کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے استفسار کیا کہ مبینہ واقعے کے باوجود ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی اور آیا معاملہ پولیس یا کسی دوسرے مجاز فورم کو بھجوایا گیا ہے یا نہیں۔ زیرِ بحث گندم کے موجودہ ذخیرے، اس کی قانونی تحویل اور ممکنہ فروخت یا منتقلی سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔عدالت نے سرکاری گندم کے ذخیرے کے شفاف، قانونی اور جوابدہ انتظام کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 12 نومبر 2026 تک ملتوی کردی۔
